حدیث تجدید
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۸
ایک واقعہ
جنگ جمل (۳۶ھ) میں ایک طرف حضرت علی اور ان کے ساتھی تھے جن کی تعداد تقریباً ۲۰ ہزار تھی۔ دوسری طرف حضرت زبیر بن العوام وغیرہ تھے جن کے ساتھ تقریبًا ۳۰ ہزار کا لشکر جمع تھا جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت علی اور حضرت زبیر اپنی اپنی صفوں سے نکلے اور دونوں لشکروں کے درمیان میدان میں آئے۔ دونوں اتنے قریب آگئے کہ ان کے گھوڑوں کے منہ آپس میں مل گئے ۔ حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا، کیا تم کو وہ دن یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کہا تھا کہ تم ایک شخص (علی) سے لڑو گے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے۔ یہ سن کر حضرت زبیر نے کہا، ” ہاں مجھ کو یاد آگیا۔ آپ نے میری روانگی سے پہلے مجھ کو یہ بات کیوں نہ یاد دلائی ۔ ورنہ میں مدینہ سے نہ نکلتا۔ خدا کی قسم اب میں تم سے ہرگز نہ لڑوں گا۔ “ یہ کہہ کر حضرت زبیر اپنے آدمیوں کی طرف واپس آگئے ۔ ان کے لڑکے عبد اللہ بن زبیر کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو ان کو پسند نہ آیا کہ ان کے والد میدانِ جنگ سے واپس چلے جائیں۔ انھوں نے اپنے باپ سے کہا ” آپ نے جب دونوں فریقوں کو میدان میں اکٹھا کر دیا اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ مجھ کو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ علی کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے ۔ آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی “ اس طرح کی اور باتیں ہوئیں ۔ تاہم حضرت زبیر میدانِ جنگ میں نہیں ٹھہرے ۔ وہ وہاں سے خاموشی کے ساتھ واپس روانہ ہو گئے۔ مگر ایک شرپسند (عمرو بن الجرموز) نے آپ کا پیچھا کیا۔ ایک مقام پر جب کہ آپ نماز میں مشغول تھے ، عین حالتِ سجدہ میں آپ کو قتل کر دیا۔
حضرت زبیر ایک صحابی تھے۔ وہ یقیناً طور پر ایک مخلص اور بہادر انسان تھے۔ اس کے باوجود ان پر ” بزدلی “ کا الزام لگایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ الزام ایک ایسی چیز ہے جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ اس کا کوئی روک ۔ خدا کا ایک بندہ وہاں چلنے سے سکتا ہے جہاں چلنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کو پست ہمت قرار دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو وہاں لڑائی سے باز رکھتا ہے جہاں ایک بندہ خدا کے لئے لڑنا جائز نہیں۔ مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ شخص لوگوں کو بزدلی کا سبق دے رہا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues