مقصدیت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶
مقصدیت
دہلی میں ایک مسلم نوجوان تھا۔ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہو سکی۔ تاہم وہ تندرست اور باصلاحیت تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس کو محسوس ہوا کہ ماحول میں اس کے لئے کوئی با عزت کام نہیں ہے۔ آخر کار وہ دادا گیری کی راہ پر لگ گیا۔ جھگڑا فساد اور لوٹ مار اس کا پیشہ بن گیا۔ لوگ اس کو دادا کہنے لگے۔
چند سالوں کے بعد ایک شخص کو اس سے ہمدردی ہوئی۔ اس نے اپنے پاس سے کچھ رقم بطور قرض دے کر اس کو دکان داری کرادی۔ جب وہ دکان میں بیٹھا اور اس کو نفع ملنے لگا تو اس کی تمام دلچسپیاں دکان کی طرف مائل ہوگئیں۔ اس نے دادا گیری چھوڑدی اور پوری طرح دکان کے کام میں مصروف ہو گیا۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا معاملہ بھی ایسا ہی کچھ ہورہا ہے۔ انھوں نے مقصدیت کھودی ہے۔ جدید دنیا میں وہ ایک بے مقصد گروہ بن کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس آج منفی باتوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ شکایت اور احتجاج کا مجسمہ بن گئے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہر نشست مجلس شکایت ہوتی ہے اور ان کا ہر جلسہ یوم احتجاج۔ اس صورت حال کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک با مقصد گروہ بنا یا جائے۔ اور یہ مقصد صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ دعوت ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر دعائیہ مقصد پیدا کر دیا جائے تو ان کی تمام کمزوریاں اپنے آپ دور ہو جائیں گی۔
وہ اپنے کرنے کا ایک اعلیٰ اور مثبت کام پالیں گے۔ ان کی بے مقصدیت اپنے آپ مقصدیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس کے بعد ان کے اندر کردار بھی آئے گا اور صبر و برداشت بھی۔ وہ دوسروں سے نفرت کرنے کے بجائے محبت کرنے لگیں گے۔ اس کے بعد ان کو وہ نظر حاصل ہو جائے گی جو تاریکی میں روشنی کا پہلو دیکھ لیتی ہے۔ جو کھونے میں پانے کا راز دریافت کر لیتی ہے۔
مقصدیت ہر قسم کی اصلاح کی جڑ ہے۔ بے مقصد آدمی کا دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ آدمی کو با مقصد بنیے اور اس کے بعد اپنے آپ اس کی ہر چیز درست ہو جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues