Al-Risala · September 1985 · page 25

معیاری دنیا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

معیاری دنیا

انسان پیدائشی طور پر معیار پسند (Idealist) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ آئیڈیل دنیا کی تلاش میں رہتا ہے۔ قدیم زمانہ سے لے کر آج تک تمام انسان اسی کھوج میں مبتلا رہے ہیں، کوئی ذہنی اور فکری طور پر اور کوئی عملی اور واقعاتی طور پر۔

موجودہ زمانہ کے اسلامی مفکرین نے جب دیکھا کہ انسان آئیڈیل زندگی کی تلاش میں ہے تو انھوں نے اسلام کو آئیڈیل نظام کے روپ میں پیش کرنا شروع کر دیا۔

مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل نظام بن نہیں سکتا۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں اگر نیک لوگوں کو آزادی ہے تو یہاں برے لوگوں کی رسی بھی دراز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ کامل کے لائے ہوئے انقلاب کے فورا بعد عرب میں ارتداد کا فتنہ پھوٹ پڑا۔ حضرت عمر فاروق جیسے عادل حکمراں کو بھی قتل کرنے والے پیدا ہو گئے۔ وغیرہ۔ انسان کو دراصل ہمیں یہ بتانا تھا کہ جس معیاری زندگی کی تھیں تلاش ہے وہ تم کو کل آخرت میں مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس مسلم مفکروں نے یہ کیا کہ اسی آج کی دنیا میں لوگوں کو آئیڈیل زندگی کا نقشہ تقسیم کرنے لگے۔ انسان کے اندر معیاری دنیا کی تلاش اس لئے رکھی گئی ہے کہ وہ موجودہ غیر معیاری دنیا پر قانع نہ ہو۔ وہ اپنی خوابوں کی دنیا کو اس سے آگے کی دنیا میں حاصل کرنا چاہے۔ یہ دعوت آخرت کی طرف سے ایک نفسیاتی محرک ہے۔ انسان کے اندر معیار پسندی کا جذبہ اس لئے تھا کہ اس کو استعمال کر کے ہم دعوت آخرت کو اس کے لئے قابلِ قبول بنائیں۔ مگر مسلم مفکرین نے یہ نادانی کی کہ آدمی کو ایک لفظی کھلونا دے کر دوبارہ اسی آج کی دنیا میں اسے مشغول کر دیا۔ ایک ایسا دین جو آخرت کی طرف پکارنے والا تھا۔ اس کو دنیا کی پکار بنا کر رکھ دیا۔

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ـــــــــ اللهم لعيش الا عيش الآخرۃ (خدایا! زندگی نہیں ہے مگر آخرت کی زندگی) مطلب یہ ہے کہ اپنی پسند کی زندگی جو آدمی بنانا چاہتا ہے وہ موجودہ دنیا میں نہیں بنتی۔ وہ تو صرف آخرت میں بنے گی۔ موجودہ دنیا معیار کے احساس کے لئے ہے نہ کہ معیار کے حصول کے لئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ نہ غریب کو اور نہ امیر کو۔ نہ عام آدمی کو اور نہ کسی بادشاہ کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page