فطرت کی پکار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۷
فطرت کی پکار
برٹرینڈ رسل ایک انگریز مفکر ہے ۔ وہ موجودہ زمانہ کا بہت بڑا ملحد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی سوانح عمری بتاتی ہے کہ انسان بظاہر خواہ کتنا ہی بڑا ملحد ہو جائے وہ اپنے آپ کو خدائی فطرت سے آزاد نہیں کر تھا۔
برٹرینڈ رسل ۱۹۵۲ میں یونان گیا۔ اس سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ یہ یونان کا میرا پہلا سفر تھا۔ اور جو کچھ میں نے دیکھا وہ میرے لیے بے حد دلچسپی کا باعث تھا۔ ایک پہلو سے تو مجھے خود تعجب ہوا۔ وہ عظیم اور ٹھوس کامیابیاں جن کو دیکھ کر ہر شخص متاثر تھا ہے۔ میں بھی متاثر ہوا۔ پھر میں نے اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے چرچ میں پایا۔ یہ اس وقت کی یادگار تھا جب کہ یونان باز نطینی سلطنت کا حصہ تھا ۔ مجھے سخت حیرانی ہوئی جب میں نے دیکھا کہ اس سے میں نے اپنے آپ کو اس سے زیادہ مانوس پایا جتنا کہ میں یونان کی قبل مسیح دور کی یادگاروں سے متاثر ہوا تھا۔ میں نے اس وقت محسوس کیا کہ مسیحی نقطہ نظر میرے اوپر اس سے زیادہ غالب ہے جتنا کہ میں نے سمجھا تھا۔ یہ غلبہ میرے عقائد پر نہیں ہوتا بلکہ میرے احساسات پر سکتا : To my astonishment, I felt more at home in this little church than I did in the Parthenon or in any of the other Greek buildings of Pagan times. I realised then that the Christian outlook had a firmer hold upon me than I had imagined. The hold was not upon my belief, but upon my feelings. (p. 561)
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جس کی ملحدانہ کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا نام ہے : میں عیسائی کیوں نہیں (Why I Am Not A Christian) حقیقت یہ ہے کہ برٹرینڈ رسل کے یہ الفاظ اس کی فطرت کی پکار ہیں ۔ ہر انسان کی فطرت میں خدا اور مذہب کا شعور ابدی طور پر پیوست ہے ، وہ چاہے بھی تو اس کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے ملحد اور منکر بھی اندر سے اپنے الحاد و انکار پر غیر مطمئن رہتے ہیں ، وہ خاص لمحات میں بے تابانہ طور پر اسی چیز کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جس کا بظاہر وہ اپنی زبان سے انکار کر رہے تھے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues