Al-Risala · October 1985 · page 9

سب سے بڑا فریب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۹

سب سے بڑا فریب

ایک نوجوان نے سی اے کا کورس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ سے ایم بی اے کی ڈگری لی۔ نوں امتحانوں میں وہ فرسٹ آئے۔ اس کے بعد ان کے لیے ترقیات کے دروازے کھل گئے۔ وہ عرب امارات گئے۔ وہاں ان کو پانچ ہزار درہم ماہوار کی ملازمت مل گئی۔ جلد ہی بعد انہیں ایک سعودی وفد نے انٹرویو کے لیے بلایا۔ انٹرویو کامیاب رہا۔ فوراً ہی ان کو سعودی عرب میں ایک جگہ مل گئی جہاں ان کی تنخواہ ۱۵ ہزار ریال ماہوار رکھتی ۔ وہ اسی طرح ترقی کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی آمدنی ہندوستانی سکہ میں ایک لاکھ روپیہ ماہوار تک پہنچ گئی۔ ترقی کے یہ مواقع جو موجودہ زمانہ میں کھلے ہیں وہ وقت کا سب سے بڑا فتنه ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹی بنیا دوں پر اپنے کو دو فرسٹ کلاس " سمجھتا ہے ۔ حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ " تھرڈ کلاس " ہوتا ہے ۔ وہ جھوٹی بنیا دوں پر اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے ، حالاں کہ وہ کامیابی کی منزل سے بہت دور ہوتا ہے ۔

موجودہ زمانہ کے ان امکانات نے بہت سے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں پائیں جہاں ان کے رہنے کے لیے سجے ہوئے مکانات ہوں۔ سفر کے لیے شاندار گاڑیاں ہوں ۔ بینک بیلنس ہو۔ ان کی جیب میں کریڈٹ کارڈ ہو جس کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لیے حسب منشاء رقم حاصل کر سکیں ۔

یہ چیزیں جدید انسان کے لیے زبردست فتنہ بن گئی ہیں۔ ہر آدمی اپنے آپ کو مادیت کے وقتی بازار میں فروخت کر رہا ہے ۔ ہر آدمی کامیابی کے جھوٹے فریب میں مبتلا ہے ۔ ہر آدمی فرضی خوش خیالیوں کا ایک محل اپنے گرد بنانے ہوئے ہے۔

مگر حقیقت کے اعتبار سے ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں ۔ امریکی وفاداری کا تمغہ روس میں بے قیمت ہوتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی مہارتیں آخرت میں بالکل بے وزن قرار پائیں گی ۔ آہ وہ انسان جو جھوٹے فریب میں جی رہا ہے ۔ اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت کے پہاڑ پر اپنا محفوظ قلعہ بنائے ہوئے ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page