Al-Risala · October 1985 · page 11

عجیب لوگ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱

عجیب لوگ

ایران حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں فتح ہوا ہے۔ اس وقت ایران کی مسلم افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ اس جنگ میں ایرانیوں کا کافی نقصان ہوا۔ چنانچہ انہوں نے گفت و شنید کی پیش کش کی۔ حضرت سعد نے مختلف وفود کو رستم اور نیز دگر کے دربار میں بھیجا۔ مثلاً نعمان بن مقرن۔ فرات بن حیان - حنظلہ بن ربیع - عطارد بن حاجب - اشعث بن قیس ۔ مغیرہ بن شعبہ - عمر و بن معد یکرب کے وفود (البدایہ والنہایہ)

تاریخ میں ان سفارتوں کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ آخری مرحلہ میں حضرت مغیرہ کا وفد شہنشاہ یزد گرد کے زرق برق دربار میں آیا۔ مدائن کے محل میں انھوں نے انتہائی بے خوفی کے ساتھ تقریر کی۔ یزدگرد اس کو سن کر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم میرے سامنے اس طرح کی باتیں کرتے ہو ۔ اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ ایلچی قتل نہ کئے جائیں تو میں تم کو ضرور قتل کر دیتا۔ اب تم واپس جاکر اپنے امیر کو بتا دو کہ میں سپہ سالار رستم کی سرکردگی میں ایسا لشکر بھیجنے والا ہوں جو تم سب کو قادسیہ کے خندق میں دفن کر دے گا۔

پھر یزدگرد نے محل کے آدمیوں سے کہا کہ ایک ٹوکری میں مٹی بھر کر لاؤ۔ مٹی لائی گئی تو اس نے مسلمانوں کے وفد سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ شریف کون ہے۔ وفد کے افراد چپ رہے۔ اس کے بعد عاصم بن عمرو بولے کہ میں سب سے زیادہ شریف ہوں۔ یزدگرد نے حکم دیا کہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکائی جائے اور ان کو یہاں سے بھگادیا جائے یہاں تک کہ وہ مدائن کے باہر چلے جائیں۔

شاہی حکم کے مطابق مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکادی گئی۔ وہ اس کو لے کر مدائن کے محل سے نکلے اور اونٹنی پر سوار ہو کر تیزی سے قادسیہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت سعد بن ابی وقاص مقیم تھے ۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے حضرت سعد کو ساری روداد سنائی اور مٹی کی ٹوکری ان کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1985 All issues

Printed page