Al-Risala · December 1985 · page 8

ہار میں جیت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۸

جب جاپان نے ہم سال پہلے ہتھیار ڈالے تو جنرل میکارتھر نے نہ صرف جاپان پر فوجی قبضہ کر لیا بلکہ اسی کے ساتھ ان کی مہم یہ بھی تھی کہ وہ ملک کی از سر نو تشکیل کریں۔ اگر اس وقت ان سے پوچھا جاتا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو میرا خیال ہے کہ وہ یہ کہتے کہ جاپان کے جارح عوام کے جوش کو جنگ کے بجائے اقتصادی حوصلوں کی طرف موڑ دینا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۲۴ اگست ۱۹۸۵) اب جاپان کے لیے ایک صورت یہ تھی کہ وہ اپنے ذہن کو باقی رکھتا۔ اگر کھلے طور پر میدان جنگ میں لڑنے کے مواقع نہیں تھے تو خفیہ طریقہ پر امریکہ کے خلاف اپنی مقابلہ آرائی کو جاری رکھتا۔ آخری درجہ میں وہ اس کام کو کر سکتا تھا جس کا نمونہ ہندوستان کے مسلمانوں میں نظر آ رہا ہے۔ یعنی اپنے مفروضہ حریف کے خلاف الفاظ کی بے فائدہ جنگ جاری رکھنا۔

مگر جاپان نے فاتح کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے فوراً اپنے عمل کا رخ بدل دیا۔ اس نے امریکہ سے براہ راست ٹکراؤ کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور اپنی تمام قوتوں کو سائنسی تعلیم اور تکنیکل ترقی کے راستہ میں لگا دیا۔

اس کا نتیجہ عظیم الشان کامیابی کی شکل میں برآمد ہوا۔ جاپان نے تیزی سے اقتصادی ترقی شروع کی۔ اس نے ۱۹۱۷ میں چھ بلین ڈالر کا تجارتی سامان امریکہ بھیجا تھا، اس کے بعد جاپانی مصنوعات کی مقبولیت امریکہ میں بڑھتی رہی یہاں تک کہ موجودہ اندازہ کے مطابق ۱۹۸۵ میں جاپان کے مقابلہ میں امریکہ کا تجارتی خسارہ (Trade deficit) کی مقدار ۴۵ بلین ڈالر تک پہونچ جائے گا (ٹائمز آف انڈیا ۴ ستمبر ۱۹۸۵) نیوزویک (۱۲ اگست ۱۹۸۵) میں ایک رپورٹ بعنوان (JAPAN: The 40-year Miracle) چھپی ہے ۔ اس میں ۱۹۴۵ میں جاپان کی کامل بربادی کے چالیس سال بعد اس کی غیر معمولی ترقی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جاپانی قوم افسانوی پرندہ کی طرح خود اپنی راکھ کے اندر سے اٹھ کھڑی ہوئی :

The nation rose like the mythical phoenix from its own ashes. جاپان کو خود اپنے فاتح کے مقابلے میں یہ کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ اس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ حقیقت کا اعتراف ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ اگرچہ بہت سے نادان لوگ حقیقت کے انکار میں کامیابی کا راز تلاش کرنے لگتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page