Al-Risala · December 1985 · page 32

مسلم پریس

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۲

یہ اندازہ ہو سکے کہ اسلام اور مسلمانوں کو کیا در پیش ہے “ (صفحہ ۴) اس مفصل اداریہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اداریہ کا ایک جز حسب ذیل ہے :

(بھارت میں) پچھلے دنوں بڑا خوفناک واقعہ یہ ہوا کہ قرآن کو خلاف قانون قرار دلوانے کے لیے عدالت عالیہ میں استغاثہ لے جایا گیا۔ عدالت نے بھی کوئی باقاعدہ فیصلہ دینے کے بجائے معاملہ کو گول مول چھوڑ کر استغاثہ کو اپنے ریمارکس کے ساتھ محض روک دیا۔ گویا شرارت کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہے۔ اس استغاثہ کے سلسلہ میں کم سے کم بنگلہ دیش میں بڑا ابھاری مظاہرہ ہوا۔ البتہ پاکستان خاموش رہا۔ (صفحہ ۸)

" ترجمان القرآن " مسلم دنیا کا ایک مشہور اور ذمہ دار ماہنامہ ہے۔ مگر اس نے اپنے اداریہ میں ہندوستانی مسلمانوں کے مذکورہ مسئلہ کے بارے میں جو الفاظ لکھے ہیں وہ سراسر خلاف واقعہ ہیں۔ یہ ماہنامہ اپنے آپ کو جس قرآن کا ترجمان بتاتا ہے اس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تم کو کوئی خبر ملے تو اس کی مکمل تحقیق کرو ( اذا جاءکم فاسق بنبا فتبيّنوا) اور یہ کہ درست بات کہو ( قولوا قولا سديدا ) مگر حال یہ ہے کہ جس مقدمہ کو ہندوستانی ہائی کورٹ نے قطعی خارج کر دیا اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں کہ عدالت نے اس کو گول مول چھوڑ دیا۔ مذکورہ قرآنی حکم کا تقاضا تھا کہ یہ ماہنامہ اس معاملہ پر رائے زنی کرنے سے پہلے اس کی پوری تحقیق کرتا اور چوں کہ یہ معاملہ ایک عدالتی معاملہ تھا اس لیے اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس عدالتی فیصلہ کو حاصل کر کے پڑھے جس کی روشنی میں وہ اپنی رائے دے رہا ہے۔ مگر ماہنامہ کے مذکورہ الفاظ تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ وہ عدالت کے فیصلہ کو پڑھے بغیر لکھے گئے ہیں راقم الحروف کی یہی رائے عام مسلم تبصرہ نگاروں کے بارے میں ہے۔ تقریباً ہر قابل ذکر مسلمان نے اس معاملہ میں رائے زنی کی ہے۔ مگر میری معلومات کے مطابق شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے مذکورہ قرآنی احکام پر نہایت عدہ عمل کیا ہو ۔

راقم الحروف کو جب اخبارات سے کلکتہ ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کا علم ہوا تو اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page