Al-Risala · February 1985 · page 14

Prophet Of the Anti-Universe

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴

انسان کی تلاش

فلپ جان بائر (Philip John Bayer) امریکہ کا ایک بڑا تاجر تھا۔ وہ کویکر اسٹیٹ ریفائننگ کمپنی (Quaker State Refining Co) کا بانی تھا۔ اس کے یہاں صرف ایک لڑکا تھا۔ لڑکا مرا تو اس نے بھی صرف ایک لڑکی چھوڑی جس کا نام الینر رٹشی (Eleanor Ritchey) تھا۔ الینر رٹشی کے پاس بے پناہ دولت تھی مگر وہ انسانوں سے اس قدر متنفر تھی کہ اس نے شادی نہیں کی اور تمام عمر اکیلی رہی۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۸ کو اس کا انتقال ہوا تو اس کی عمر ۵۰ سال تھی۔ انسانوں سے بے رغبت ہو کر اس نے اپنی دل چسپی کے لئے عجیب و غریب عادتیں بنا رکھی تھیں۔ مثلاً وہ کثرت سے جوتے خریدتی۔ مگر ہر جوتے کو وہ صرف ایک بار پہنتی تھی۔ چنانچہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر میں ۷۰، ۱۴ جوڑے موجود تھے۔ اسی طرح اس کے گھر میں اسٹیشنری کے ۲۲ ۲۲ بکس پائے گئے۔ وغیرہ اس کی سب سے عجیب دل چسپی کتے تھے۔ وہ جب اپنی کار سے باہر نکلتی اور کوئی آوارہ کتا اس کو نظر آتا تو وہ پکڑوا کر اس کو اپنے گھر لاتی اور ان کو خصوصی اہتمام سے پالتی۔ اس طرح اس کے یہاں ۱۵۰ کتے جمع ہو گئے۔ اس کا گھر کتوں کی اس فوج کے لئے ناکافی معلوم ہوا تو اس نے اولاً بارہ ایکڑ اور اس کے بعد ۱۸ ایکڑ زمین صرف اس لئے خریدی کہ وہاں کتوں کو خصوصی اہتمام کے ساتھ رکھنے کا انتظام کیا جاسکے۔

الینر رٹشی نے اپنی موت سے پہلے ایک وصیت نامہ تیار کرایا۔ اس وصیت میں اس نے لکھا کہ میری دولت میرے پالتو کتوں کے لئے وقف ہے۔ جب ایک ایک کر کے تمام کتے مرجائیں تو میری پوری دولت الباما (امریکہ) کے مدرسہ حیوانات (School of Veterinary Science) کو دے دی جائے۔ اب اس کے کتوں میں صرف آخری کتا رہ گیا ہے جس کا نام مسکثیر (Musketeer) ہے۔ یہ تیرہ سالہ کتا اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ جب وہ چلتا ہے تو اس کا پاؤں کا نپتا ہے اور جب وہ چھینکتا ہے تو زمین میں گر پڑتا ہے۔ یقینی طور پر وہ بہت جلد مرجائے گا اس کے بعد مذکورہ مدرسہ حیوانات کو بارہ ملین ڈالر کی رقم اچانک حاصل ہو جائے گی (ٹائمس آف انڈیا ۲ جنوری ۱۹۸۴) آدمی کو اگر آئیڈیل انسان نہ ملے تو اس کو آئیڈیل نظریہ تلاش کرنا چاہئے۔ الینر رٹشی اگر ایسا نظریہ پالتی تو انسان اس کے لئے محبت کا موضوع بن جاتا نہ کہ محبت کا موضوع۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page