Al-Risala · March 1986 · page 2

تاریخ کا فیصلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲

تاریخ کا فیصلہ

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا۔ اس موقع پر عیسائیوں کی فرمائش پر خود حضرت عمر مدینہ سے فلسطین گئے تاکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان معاہدہ کی تکمیل کریں۔ اس سلسلہ میں جو واقعات تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے : حان وقت الصلوة وهو جالس فى صحن كنيسة القيامة . فالتفت الى البطريرك وقال له اين أصلّى . فقال مكانك صلّ . فقال ما كان لعُمر ان يصلى فى الكنيسة فياتى المسلمون من بعدى ويقولون هنا صلّى عمر ويبنون عليه مسجدا ۔ وابتعد عنها رمية حجر وفرش عباءته وصلّى . وجاء المسلمون من بعده وبنوا على مصلاّه مسجدا وهو قائم على رمية حجر من كنيسة القيامة الى يومنا هذا عبد الله التل خطر اليهودية العالمية على الاسلام والمسيحية، دار الاعتصام، القاهرة، ١٩٧٣ صفحه ۱۲۹ حضرت عمر یروشلم میں کنیسهٔ قیامہ کے صحن میں بیٹھے تھے کہ نماز کا وقت آگیا۔ وہ بطریق کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے کہا کہ میں نماز کہاں پڑھوں بطریق نے کہا اپنی جگہ پر پڑھ لیجئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ عمر کے لیے سزا وار نہیں کہ وہ گرجا کے اندر نماز پڑھے۔ پھر مسلمان میرے بعد آئیں اور کہیں کہ یہاں عمر نے نماز پڑھی تھی اور اس پر مسجد بنائیں ۔ حضرت عمر وہاں سے ایک پتھر پھینکنے کی مسافت کے بقدر دور گئے اور وہاں اپنی عبا بچھائی اور نماز پڑھی ۔ اس کے بعد مسلمان آئے اور ان کے نماز پڑھنے کی جگہ پر مسجد بنائی ۔ یہ مسجد آج بھی کینسۂ قیامہ سے ایک پتھر پھینکنے کی دوری پر موجود ہے۔

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ نزاع کے مقام سے ہٹ کر اپنی مسجد بناتے تھے ۔ ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے اصرار کیا کہ وہ جھگڑے کی جگہ پر نماز پڑھیں گے اور نزاع کے مقام پر اپنی مسجد بنائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اسلام کے قلعہ میں ایک اینٹ کا بھی اضافہ نہ کر سکے ۔ بلکہ اسلام کا جو قلعہ بن کر کھڑا ہو چکا تھا اس کو بھی انہوں نے اپنی نادانی سے ڈھادیا۔

میں سراسر اپنے دعوے سے دستبردار ہو جاتا ہوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page