Al-Risala · March 1986 · page 25

اخلاق کا معیار

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲۵

یہ انسان

ایک ہے کسی چیز کو دور سے دیکھنا ۔ اور ایک ہے اس کا قریب سے تجربہ کرنا ۔ دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ دور سے دیکھنے میں ہر چیز اچھی معلوم ہوتی ہے مگر جب قریب سے اس کا تجربہ کیا جائے اسی وقت صحیح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا تھا اور کیا نہیں تھا ۔

دورسے دیکھئے تو ناگ پھنی بھی آپ کو اچھی معلوم ہوگی ۔ حتیٰ کہ بہت سے لوگ ناگ پھنی کے پودے کو گملے میں لگا کر اس کو اپنے گھر کی زینت بناتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ ناگ پھنی کے پتوں کو رومال اور تولیہ کے طور پر استعمال کریں تو اس وقت آپ کو معلوم ہوگا کہ ناگ پھنی حقیقت میں اس سے بالکل مختلف تھی جو وہ دور سے دیکھنے میں نظر آرہی تھی ۔

یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے ۔ لوگوں سے رسمی طور پر مِلئے ، میز کرسی کی سطح پر ان سے باتیں کیجئے ۔ تو ہر آدمی اچھا نظر آئے گا ۔ مگر جب حقیقی تجربہ پیش آتا ہے اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سے بالکل مختلف تھا جو وہ دور سے دیکھنے میں نظر آرہا تھا ۔ لوگ اپنے الفاظ میں کچھ ہیں اور عمل میں کچھ ۔ لوگ رسمی ملاقاتوں میں اچھے نظر آتے ہیں ۔ مگر حقیقی تجربہ فوراً بتا دیتا ہے کہ وہ اتنے برے تھے کہ کوئی جانور بھی اِنشا بر انہیں ہوتا ۔

آپ جانور کے بارہ میں پیشگی یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ اسی وقت ستائے گا جب کہ آپ خود پہلے اس کو ستائیں ۔ مگر انسان ایک طرفہ اپنے دوسرے بھائی کو ستاتا ہے ۔ آپ لوہے کے بارےمیں پیشگی طور پر یہ یقین کر سکتے ہیں کہ اس کو آپ جہاں بھی استعمال کریں گے وہ ہمیشہ " لوہا " ثابت ہوگا ۔ وہ مٹی اور لکڑی نہیں بن جائے گا ۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ آپ اس کی باتوں کے فریب میں آکر اس کو لوہا سمجھ لیتے ہیں مگر عملی تجربہ میں وہ مٹی کی طرح کمزور ثابت ہوتا ہے ۔ آہ ، لوگوں کو معلوم نہیں کہ آخرت میں ان کے ساتھ بہ اعتبار حقیقت معاملہ کیا جائے گا نہ کہ باعتبار ظاہر ۔ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو پردہ میں چھپا لیتا ہے مگر آخرت میں اس کے جھوٹے الفاظ اس کو چھپانے والے نہیں بنیں گے ۔ آخرت میں آدمی اپنے ظاہر میں ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ اپنے باطن میں تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page