کولمبس کو دنیا نئی تو نے بخشی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲۷
ایک سفر
نومبر1985میں کرۂ ارض کے اس حصہ کا سفر ہوا جس کی بابت خواجہ الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں کہا تھا :
کولمبس کو دنیا نئی تو نے بخشی
یہ سفر امریکہ کے دو شہروں، نیو یارک اور نیوجرسی کے لیے تھا۔ نیو یارک کے لیے میرا پہلا سفر اپریل ۱۹۸۳ میں ہوا تھا۔ اس کی مختصر روداد الرسالہ جون ۱۹۸۳ میں شائع ہو چکی ہے۔ دوسرا سفر موجودہ سفر تھا۔ یہ سفر ایک عالمی مذاہب کا نفرنس کے دعوت نامہ پر ہوا۔
مذاہب کی پارلیمنٹ (World's Parliament of Religions) کے نام سے ایک کا نفرنس امریکہ کے شہر شکاگو میں1893 میں ہوئی تھی۔ اس تاریخی کا نفرنس کی یاد میں امریکہ میں زیادہ وسیع پیمانہ پر ایک بین اقوامی کا نفرنس ہوئی جس میں ساری دنیا سے مختلف مذاہب کے نمائندے بلائے گئے ۔ اس کا نفرنس کا مقصد روحانی اتحاد (Spiritual Unity) اور عالمی امن بتایا گیا تھا اس کو انٹرنیشنل ریلیجس فاؤنڈیشن (نیو یارک) نے منظم کیا تھا۔ انٹرنیشنل ریلیجس فاؤنڈیشن کے ایک ذمہ دار پروفیسر ہوسٹن اسمته (Huston Smith) ہمارے مرکز (نئی دہلی) میں بھی اس سے پہلے آئے تھے جس کا ذکر الرساله مارچ ۱۹۸۵ کے خبر نامہ میں شائع ہو چکا ہے ۔ مجھ کو اس کا نفرنس میں اسلام کے نمائندہ کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دعوت نامہ کے مطابق میں اس کا نفرنس میں شریک ہوا اور وہاں اپنا مقالہ پیش کیا جس کا عنوان تھا:
The Concept of Morality in Islam
یہ مقالہ انشاء اللہ الرسالہ (انگریزی) میں شائع کر دیا جائے گا۔ کا نفرنس کی طرف سے جو دعوت نامہ موصول ہوا اس میں درج تھا کہ آپ اپنے بچوں میں سے کسی کو لانا چاہیں تو اپنے ساتھ لا سکتے ہیں چنانچہ میرے لڑکے ثانی اثنین بھی میرے ساتھ اس سفر میں شریک تھے۔
اس کا نفرنس کا نام اس کے ذمہ داروں نے (Assembly of the World's Religions)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues