The Concept of Morality in Islam
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹
جان شیڈ (John Shedd) کا قول یاد آیا کہ جہاز بندرگاہ پر محفوظ ہوتا ہے مگر جہاز اس لیے نہیں کہ وہ بندر گاہ پر کھڑا رہے:
یہ جہاز بوئنگ ۷۴۷ تھا ۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا جہاز ہوتا ہے ۔ اس کے اندر آپ ایک سرے پر کھڑے ہوں تو آپ دوسرے سرے کے مسافر کو پہچان نہیں سکتے۔ ایسے ایک جہاز کی قیمت تقریباً پچاس کروڑ روپے ہوتی ہے۔ اس قسم کے جہاز زیادہ تر امریکہ میں بنائے جاتے ہیں۔ جہاز سازی کی صنعت میں امریکہ آج سب سے آگے ہے۔ کسی جہاز پر خواہ ایئر انڈیا لکھا ہو یا ایئر پاکستان، سعودی ایئر لکھا ہو یا ایئرانی ایر بہر حال وہ امریکی کار خانہ کا بنا ہوا ہوگا۔
ہماری پہلی منزل بمبئی تھی ۔ جاتے ہوئے یہ جہاز دہلی ، بمبئی ۔ لندن۔ نیو یارک کے راستے سے جاتا ہے اور واپسی میں نیو یارک لندن ۔ دہلی واپس آتا ہے ۔ ہمارا یہ سفر ایک لحاظ سے " بمبئی " سے " بمبئی " کے لیے تھا ۔ ہندوستان میں جو حیثیت بمبئی کی ہے ۔ امریکہ کے اعتبار سے وہی حیثیت وہاں نیویارک کی ہے ۔ نیویارک گویا زیادہ بڑا بمبئی ہے ۔ چند سو سال پہلے نیویارک اور بمبئی دونوں یکساں طور پر سمندر کے کنارے کی دو معمولی بستیاں تھیں۔ مگر آج دونوں میں ترقی کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ بمبئی اگر ایک ملک کا اقتصادی مرکز ہے تو نیویارک ساری دنیا کا اقتصادی مرکز ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمی ایک ساتھ سفر شروع کرتے ہیں ۔ مگر بعد کے حالات ایک کو آگے کر دیتے ہیں اور دوسرے کو پیچھے ۔
۴ نومبر کی صبح کو ہوائی جہاز دبئی کے ہوائی اڈے پر اترا۔ دبئی کا ہوائی اڈہ بہت منظم اور شاندار ہے۔ سب سے پہلے ہم کو مسجد کی تلاش ہوئی۔ اوپر کی منزل پر پہونچے تو وہاں ایک کنارے چھوٹی سی خوبصورت مسجد موجود تھی ۔ اسی کے ساتھ نہایت صاف ستھرا حمام بھی تھا۔ ہم نے وضو کر کے سکون کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔
مسجد سے باہر نکلے تو خیال آیا کہ دبئی اور شارجہ میں کچھ لوگوں کو ٹیلیفون کیا جائے ۔ دبئی میں مقامی ٹیلیفون کرنے کی کوئی قیمت نہیں۔ مقامی کال یہاں فری ہے۔ چنانچہ ہم نے دبئی کے ایک صاحب (شیخ علی الہاشمی) کا نمبر ملایا۔ نمبر فوراً مل گیا اور بغیر کسی اختلال کے گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues