Al-Risala · January 1986 · page 12

لچک بھی ضروری ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲

لچک بھی ضروری ہے

دکان دار کے یہاں ایک آدمی آیا۔ اس کو کپڑا خریدنا تھا۔ کپڑا اس نے پسند کر لیا مگر دام کے لیے تقریباً آدھ گھنٹہ تک تکرار ہوتی رہی۔ نہ دکان دار کم کرنے پر راضی ہوتا تھا نہ خریدار بڑھانے پر۔ آخر دکان دار نے اسی قیمت میں کپڑا دے دیا جس پر گاہک اصرار کر رہا تھا۔

ایک بزرگ اس وقت دکان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب گاہک چلا گیا تو انھوں نے کہا: جب تمہیں گاہک کی لگائی ہوئی قیمت پر کپڑا دینا تھا تو پہلے ہی دے دیا ہوتا۔ آخر اتنی دیر تک اس کا اور اپنا وقت کیوں ضائع کیا۔ "حضرت آپ سمجھے نہیں " دکان دار نے کہا " میں اس کو پکا کر رہا تھا۔ اگر میں اس کی لگائی ہوئی قیمت پر فوراً سودا دے دیتا تو وہ شبہ میں پڑ جاتا اور خریدے بغیر واپس چلا جاتا۔ اس کے علاوہ میں یہ اندازہ کر رہا تھا کہ وہ کہاں تک جاسکتا ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ اس سے آگے بڑھنے والا نہیں ہے تو میں نے اس کو کپڑا دے دیا۔

جب دو فریقوں کے درمیان مقابلہ ہو تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ ہر فریق اپنی اپنی مرضی کے مطابق معاملہ طے کرانا چاہتا ہے۔ ایسے موقع پر بلاشبہ عقل مندی کا تقاضا ہے کہ اپنی مانگ پر اصرار کیا جائے، مگر اسی کے ساتھ عقل مندی ہی کا دوسرا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی حدود کو جانے اور اس کے لیے تیار رہے کہ بالآخر کہاں پہنچ کر اس کو راضی ہو جانا ہے۔

اس اصول کو ایک لفظ میں توافق (Adjustment) کہہ سکتے ہیں۔ یہ توافق زندگی کا ایک راز ہے۔ یہ موجود دنیا میں کامیابی کا اہم ترین اصول ہے۔ اس اصول کی اہمیت ذاتی معاملات کے لیے بھی ہے اور قومی معاملات کے لیے بھی۔

اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو چلنے کے ساتھ دوسروں کو بھی جانے۔ موجودہ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو دو طرفہ تقاضوں کی رعایت کر سکے۔ جو شخص یک طرفہ پر صرف اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑے اس کے لیے موجودہ دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page