Alcoholic beverages will not be provided
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸
کی باتیں سنتے تھے۔ اور یہ سب کچھ اس طرح ہوتا تھا کہ کہیں مناظرہ کی فضا پیدا نہیں ہو رہی تھی اور نہ کہیں متعصبانہ سلوک کا منظر دکھائی دیتا تھا۔ یہاں میں نے اسلام کے سوا دوسرے مذاہب کے لوگوں سے باتیں کیں۔ مگر کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ کبھی کوئی ناخوش گوار صورت حال سامنے نہیں آئی۔ یہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔ یہ صرف دورِ جدید میں ممکن ہوا ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ سنجیدہ ذہن کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوں، اور کسی اشتعال کے بغیر ایک دوسرے کی باتیں سنیں۔ قدیم زمانہ میں اس طرح کی مذہبی یک جائی ممکن نہ تھی۔ اس صورت حال نے ہمارے لیے دین کے تعارف کا بالکل نیا امکان کھول دیا ہے، ایک ایسا امکان جو اس سے پہلے کبھی پایا نہ جاتا تھا۔
۱۵ نومبر کی شام کو صرف افتتاح کا پروگرام تھا۔ اس کے بعد پروگرام کی ترتیب یہ تھی کہ ہر روز بڑے ہال میں ایک عام اجتماع ہوتا جس میں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات پیش کرتے۔ اس کے بعد حلقہ وار اجتماعات ہوتے۔ تمام لوگ بارہ موضوعات کے تحت بارہ حلقوں میں تقسیم کر دیئے گئے تھے۔ ہر حلقہ روزانہ اپنے اپنے موضوع پر بحث کرتا اور کسی متفقہ رائے تک بہو پچنے کی کوشش کرتا۔ میرا تعلق (Theme Group -12-A) سے تھا۔
اس اجتماع میں دنیا کے تمام مذاہب کے نمائندوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس میں افریقہ کے قبائلی مذہب کے نمائندے بھی تھے جو بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کے پیشوا اپنے عجیب و غریب عقائد کے تحت اپنے چہرہ کو گرم لوہے سے اس طرح داغتے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے ان کے چہرے پر اس کا نشان پڑ جاتا ہے۔ دوسری طرف اس میں ایسے مذاہب کے نمائندے بھی تھے جن کے پیشوا انتہائی جدید طرز پر رہتے ہیں۔ وہ رولس رائس کاروں پر سفر کرتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے ذاتی ہوائی جہاز ہیں۔ اس کانفرنس میں بت پرست بھی تھے اور خدا پرست بھی۔ ان میں روح کو پوجنے والے بھی تھے اور ایسے لوگ بھی تھے جو خدا جیسی کسی چیز کو سرے سے نہیں مانتے۔ چنانچہ اس اجتماع میں ایک طرف خدا اور مذہب کی باتیں سننے میں آتی تھیں اور دوسری طرف خدا اور مذہب کے خلاف باتیں بھی۔ ان میں سے چند جملے یہ ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues