Al-Risala · March 1986 · page 40

Alcoholic beverages will not be provided

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۴۰

The God of the theologians is dead. I am a Buddhist, there is no God for me. Life is nothing but a chemical process. There is no other God than Truth. Religious people are God-centered people. I have no belief in God, but I do profess faith in the spirit of Man. Man, ethically, is an end in himself. The main aim of religion is peace and happiness. اسلامی نقطۂ نظر سے اگر اس کانفرنس کا خلاصہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ بیشتر مذاہب کے نمائندوں نے یہ کہا کہ مذہب کا مقصد شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کے نمائندوں نے تقریباً متفقہ طور پر اسلام کی امتیازی صفت یہ بیان کی کہ اسلام صرف فرد کا دین نہیں، وہ پورے اجتماعی نظام میں مکمل انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ مجھے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک اسلام کا اصل نشانہ فرد ہے کہ نہ اجتماع - اجتماعی تغیر اس کا بالواسطہ جزو ہے نہ کہ براہ راست ۔ تاہم میں نے اس سے اعراض کیا کہ کانفرنس میں دیگر مذاہب کے نمائندوں کے سامنے مسلمانوں سے اختلافی بحث کرنے لگوں۔ البتہ الگ سے ان کے سامنے اپنا نقطۂ نظر رکھنے کی کوشش کی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کی مذکورہ تعبیر درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر ہی خود اسلام کا مقصد بھی ہے جس طرح وہ دوسرے مذاہب کا مقصد بتایا جاتا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان جو فرق ہے وہ کامل اور ناقص کا نہیں بلکہ مستند اور غیر مستند کا ہے۔ اسلام دین خداوندی کا محفوظ اور مستند ایڈیشن ہے جب کہ دوسرے مذاہب دین خداوندی کا بگڑا ہوا ایڈیشن۔ اصل مقصد کے اعتبار سے اسلام اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہیں۔ مگر مقصد کے حصول کے لیے آج صرف اسلام ہی قابل اعتبار ماخذ ہے نہ کہ دوسرے مذاہب۔ دوسرے مذاہب اپنی اعتبار یت کھو چکے ہیں۔ تحریف و تغیر کی وجہ سے دوسرے مذاہب میں اصل حقیقت بگڑ کر کچھ سے کچھ ہو گئی ہے۔ مثلاً ہندوازم انسانی شخصیت کی تعمیر معرفت خویش (Self realization) میں بتاتا ہے جب کہ اسلام کے نزدیک انسانی شخصیت کی تعمیر کا راز معرفت خدا (God realization) میں پوشیدہ ہے۔ عیسائیت کے نزدیک انسانی شخصیت کی تکمیل اس میں ہے کہ آدمی رسول کو ابن اللہ کی حیثیت سے پائے جب کہ اسلام کے نزدیک انسانی شخصیت کی تکمیل اس میں ہے کہ آدمی رسول کو خدا کے پیغام رساں کی حیثیت سے پاسکے۔ بدھزم اخلاقی احساس پیدا کرنے کا سرچشمہ موجودہ دنیا نام

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page