Al-Risala · January 1986 · page 14

تضاد

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴

تضاد

یہ ایکسپریس ٹرین کا فرسٹ کلاس تھا۔ ایک مرد عورت اپنے بچے کے ساتھ کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئے وہاں پہلے سے ایک آدمی تھا جو سگریٹ پی رہا تھا۔ مرد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے انگریزی میں کہا : I think smoking is not allowed inside the compartment میرا خیال ہے کہ کمپارٹمنٹ کے اندر سگریٹ پینے کی اجازت نہیں، اس کے بعد میاں بیوی دونوں ایک طرف بیٹھ گئے اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ بچے سے مل کر زور زور سے باتیں کرنے اور قہقہہ لگانے میں مشغول ہو گئے۔ ان کے نزدیک کمپارٹمنٹ کے اندر دھواں کرنا نا جائز تھا مگر اسی کمپارٹمنٹ کے اندر شور کرنا ان کے نزدیک عین درست تھا۔

یہی آج کل تمام انسانوں کا حال ہے۔ ایک آدمی اتفاق سے جس چیز کا عادی نہیں ہے یا جو چیز اتفاق سے اس کی عادت میں شامل نہیں ہوئی ہے اس کا بُرا ہونا اس کو معلوم ہے۔ وہ کسی شخص کو اس میں مشغول دیکھتا ہے تو بہت زور و شور کے ساتھ اس کے غلط ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ مگر اسی درجہ کی دوسری برائی جس میں وہ آدمی خود مبتلا ہے وہ اس کو نظر نہیں آتی، حتیٰ کہ اس کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ غلط ہے۔ وہ دوسرے کی برائی کا خوب ذکر کرتا ہے مگر وہ اپنی برائی کے بارہ میں خاموش رہتا ہے۔ برائی کی ایک قسم اور ہے جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ اور وہ ہے ۔ ۔۔۔۔۔ خود را نصیحت دیگر اں را نصیحت ۔ یعنی دوسروں کو برا کہنا اور خود اُسی بُرائی میں مبتلا ہونا۔ ایک آدمی دوسرے کو دو رخا (Double standard) ہونے کا الزام دے گا حالاں کہ وہ خود دو رُخا ہوگا۔ ایک آدمی دوسرے کی اقربا نوازی کے خلاف جھنڈا اٹھائے گا حالاں کہ اپنے دائرہ میں وہ خود اقربا نوازی کر رہا ہوگا۔ ایک آدمی دوسرے کو اتحاد دشمن بتائے گا حالاں کہ وہ خود اتحاد دشمنی کے عمل میں مبتلا ہوگا۔ ایک آدمی دوسرے کی مصلحت پرستی کا انکشاف کرے گا حالاں کہ وہ اپنے مفاد کے معاملہ میں خود بھی مصلحت پرست بنا ہوا ہوگا۔

لوگ تضاد میں جی رہے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خدا کی دنیا ہے۔ اور خدا کی بے تضاد دنیا میں تضاد کا رویہ اتنا بڑا جرم ہے جس کی کوئی معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page