صحیح انداز کار
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰
صحیح انداز کار
دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے مقابلہ میں فرانس کو شکست ہوئی۔ اس دوران پیرس میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں فرانس کے مختلف ذمہ دار شریک تھے ۔ اس میٹنگ میں جن لوگوں نے تقریریں کیں ان سب کا مشترک خلاصہ یہ تھا کہ ہر ایک جرمنی کو اور نازی پارٹی کو برا بھلا کہتا رہا۔ آخر میں ایک فرانسیسی جنرل اٹھا اس نے کہا کہ ہماری شکست کا سبب جرمنی نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ اور وہ یہ کہ ہمارے پاس نہ ہتھیار ہیں اور نہ لڑنے والے جوان :
No armament, no children
دوسری جنگِ عظیم سے پہلے فرانس کی جنگی صنعت نسبتاً بہت پیچھے تھی ۔ دوسری طرف فرانس میں جنسی اباحیت کے نتیجہ میں بہت بڑے پیمانہ پر یہ ذہن پیدا ہو گیا تھا کہ بچے نہ پیدا کیے جائیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرانس میں بچوں کی پیدائش کی شرح بہت گھٹ گئی ۔ مذکورہ جنرل کے نزدیک یہ دو داخلی اسباب تھے جو فرانس کے شکست کا سبب بنے ۔ ظاہر ہے کہ جب نہ ہتھیار ہو اور نہ فوج تو جنگ کیسے لڑی جائے گی ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے انداز ہوتا ہے کہ معاملات میں سوچنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک ہے خارجی انداز فکر اور دوسرا ہے داخلی اندازہ فکر ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر احیاء امت کی جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ سب کی سب خارجی انداز فکر پر چل رہی ہیں۔ ہر ایک نے اپنے سے باہر ایک "دشمن" دریافت کر رکھا ہے ۔ اور ہر ایک اپنے دریافت کردہ دشمن کے خلاف تقریری یا غیر تقریری مہم چلانے میں مصروف ہے ۔ موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں میں اس اعتبار سے غالباً ایک ہی استثنا ہے اور وہ تبلیغی جماعت کا ہے تبلیغی جماعت واحد مسلم جماعت ہے جو داخلی انداز فکر پر چل رہی ہے ۔ تبلیغی جماعت کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایمان و یقین کی کمزوری سے ان کے سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر اگر دوبارہ ایمان و یقین زندہ ہو جائے تو ان کے تمام مسائل بھی اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ راقم الحروف ذاتی طور پر اسی آخری طرزِ فکر کو صحیح سمجھتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا ہر مسئلہ ان کی داخلی کمزوری کا مسئلہ ہے ۔ جو شخص واقعہ کوئی نتیجہ خیز کام کرنا چاہتا ہو اس کو مسلمانوں کی داخلی اصلاح پر اپنی ساری طاقت لگا دینی چاہیے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues