قلبی عمل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۲
قلبی عمل
غزوہ تبوک میں کچھ لوگ عذر کی بنا پر شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کی بابت قرآن میں آیا ہے کہ ضعیفوں پر اور مریضوں پر اور محتاجوں پر کچھ گناہ نہیں جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں۔ نیکی والوں پر کوئی الزام نہیں۔ اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے۔ اور نہ ان پر کوئی گناہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تاکہ تم ان کو سواری دو، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو سواری کے لیے دوں، وہ واپس ہوئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس غم میں کہ ان کے پاس کوئی چیز نہیں جس کو وہ خرچ کریں۔ (التوبہ) محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ یہ سات افراد تھے جو انصار کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لفتد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم نے مدینہ خلفتم بالمدينة اقواما ما انفقتم من نفقة ولا میں ایسے لوگ چھوڑے ہیں کہ تم نے جو بھی خرچ کیا قطعمتم واديا ولا ننلتم من عدونيلا الاو تم نے جو وادی بھی طے کی، اور تم نے دشمن پر جو کامیابی قد شركوكم في الاجر وقالوا وهم بالمدينة بھی حاصل کی، ان سب کے اجر میں وہ شریک تھے قال نعم حبسهم العذر) صحابہ نے کہا کہ اگرچہ وہ مدینہ میں تھے۔ آپ نے (تفسیر ابن کثیر الجز الناثانی ، صفحہ ۳۸۲) فرمایا ہاں، ان کو عذر نے روک دیا۔ آدمی نہ کر کے بھی کرنے والوں کے اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔ بظاہر کچھ نہ پا کر بھی اس کا شمار ان لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنھوں نے بہت کچھ پایا۔ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس کام میں ہم عملاً شریک نہ ہو سکے اس میں ہم جذبہ کے اعتبار سے شریک ہو جائیں۔ کسی کو اپنے سے بڑا دیکھیں تو اس پر حسد کرنے کے بجائے اس کی بڑائی کا اعتراف کر لیں۔ کسی کے پاس ہم سے زیادہ مال ہو تو ہم دل سے یہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرے اور اس کو حقوق کی ادائیگی کی توفیق دے کسی کو ”مقرر “ کے اسٹیج پر جگہ مل جائے اور ہم صرف ”سامع بنے ہوئے ہوں تو ہم اس کے لیے دعا کریں کہ خدایا تو اس کو توفیق دے کہ اس کی زبان سے جو کچھ نکلے حق نکلے اس کی زبان ناحق بولنے سے محفوظ رہے ۔