تشریح
الرسالہ، مئی ۱۹۸۶، صفحہ ۷
تشریح
مذکورہ آیت میں لا تاکلوا (نہ کھاؤ) کا لفظ ہے ۔ علماء نے تصریح کی ہے کہ اَکُل یہاں لفظی معنی میں نہیں ہے ۔ یعنی اس سے مراد صرف کھانا نہیں ، بلکہ یہ ایک تعبیر ہے اور اس سے مراد کسی بھی چیز کو اپنے قبضہ اور تصرف میں لے آنا ہے (عبر بہ الاخذ والاستیلاء ، البحر المحیط) اسی طرح باطل کی تشریح صاحب روح المعانی نے ان الفاظ میں کی ہے : والمراد بالباطل الحرام وکل مالم يأذن باخذه الشرع ۔ (باطل کا مطلب حرام ہے اور ہر وہ چیز جس کے لینے کی اجازت شریعت نے نہ دی ہو)
انسان کو جو چیز جائز طور پر نہ ملے اس کو وہ ناجائز طور پر حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ مذکورہ آیت میں اسی ذہنیت کو غلط اور حرام قرار دیا گیا ہے ۔
انسان کا حال یہ ہے کہ جو مال شرعی طور پر اس کا حق نہ ہو اس کو وہ غیر شرعی کارروائیوں کے ذریعہ اپنے قبضہ میں لینا چاہتا ہے ۔ جو چیز اس کو انصاف کے ذریعہ نہ ملے اس کو وہ دھاندلی کے ذریعہ حاصل کرنے کی تدبیر کرتا ہے ۔ جس چیز کے متعلق اس کو اندیشہ ہو کہ وہ سچ بول کر اس کو نہیں پائے گا اس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ جھوٹ بول کر اس کا مالک بن جائے ۔
انسان کا یہ مزاج اس کی زندگی کے ہر معاملہ میں ظاہر ہوتا ہے ۔ جس عہدہ پر وہ پر امن طور پر قابض نہ ہو سکا اس پر وہ تخریب کاری کے ذریعہ قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ جو چیز شرافت کا طریقہ اختیار کر کے نہ ملے اس کو وہ کمینگی کا طریقہ اختیار کرکے حاصل کرتا ہے ۔ جہاں حقیقی اشو پر قیادت نہ مل رہی ہو وہاں وہ جھوٹے اشو کھڑا کرتا ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح قوم کے اوپر قائد بن جائے ۔ جو چیز روایات کے دائرہ میں ملتی ہوئی نظر نہ آئے اس کو وہ روایات کو توڑ کر حاصل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے خواہ اس کے نتیجہ میں ساری انسانی زندگی فساد کی شکار ہو کر رہ جائے ۔
یہ سب وہ چیزیں ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے اور جو شخص اللہ کی پکڑ سے بچنا چاہتا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ان چیزوں سے بچے ۔ وہ وہی لے جو شریعت کے مطابق اس کا حق ہے اور وہ نہ لے جو شریعت کے اس کا حق نہیں ۔