غصہ اور کبر
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۸
غصہ اور کبر
قال يحيى عليه السلام ان الغضب من حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ غصہ تکبر سے ہوتا الكبر. فقيل له كيف يكون الغضب من ہے۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول ، غصہ کا تعلق الكبرىاني الله - قال الا ترون ان الذي تکبر سے کیوں کر ہے ۔ فرمایا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ يغضب انما يغضب على من دونه من الناس جو شخص غصہ کرتا ہے وہ اس پر غصہ کرتا ہے جو درجہ مرتبة وليس على من هو اعلى منه میں اس سے کم ہو۔ وہ اس پر غصہ نہیں کرتا جو اس سے برتر ہو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ غصہ ہمیشہ کبر کی نفسیات سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہو جائے تو وہ غصہ کرنا بھی چھوڑ دے۔
متواضع آدمی کو بھی کبھی غصہ آتا ہے۔ مگر اس کا غصہ وقتی ہوتا ہے۔ اسی لیے وقتی ظہور کے بعد وہ ختم بھی ہو جاتا ہے۔ متواضع آدمی وقتی غصہ کے بعد دوبارہ ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔
لیکن کبر اور برتری کی نفسیات سے جو غصہ پیدا ہوتا ہے وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے فریق کو ذلیل نہ کرلے۔ جو شخص اپنے کو بڑا سمجھ لے وہ اس وقت آپے سے باہر ہو جاتا ہے جب اس کو محسوس ہو کہ کسی نے اس کی بڑائی کو چھو دیا ہے۔ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وہ بے قابو ہو کر اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔ وہ اپنے قول اور عمل کی تمام طاقتیں اس کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو اس وقت تک تسکین نہیں ملتی جب تک وہ فریق مخالف کو چھوٹا کر کے اپنی بڑائی کے احساس کو دوبارہ بحال نہ کرلے ۔ مگر غصہ اور انتقام کی تمام کارروائی اپنے سے چھوٹے کے خلاف ہوتی ہے۔ جس کو آدمی اپنے سے برتر پائے اس کے مقابلہ میں وہ جوش نہیں دکھاتا ، اس کے مقابلہ میں اس کے غصہ کی آگ سرد پڑی رہتی ہے ۔ کبھی غصہ بھی کبر ہوتا ہے ، اور جو غصہ کبر ہو اس سے بڑا جرم اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues