غیر تعمیری ذوق
الرسالہ، جون ۱۹۸۶، صفحہ ۲۹
ہ گئے اور اب لکھنؤ میں تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں ، ان کا تعمیری نقطہ نظر غالب اردو کی صحافت میں کھپ نہ سکا اور انھیں اپنے آپ کو اس سے علیحدہ کر لینا پڑا ۔
فرقہ وارانہ فساد کے موضوع پر میرے کچھ مضامین ماہنامہ الرسالہ میں چھپے ۔ اردو اخبارات کا عام ذہن یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں ہمیشہ غیر مسلم طبقہ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ میں نے اس کے برعکس خود مسلمانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی ۔ میں نے مسلمانوں کو بتایا کہ وہ اپنی اندرونی کمزوریوں پر قابو پا کر فسادات کے مسئلہ پر قابو پا سکتے ہیں ۔ ان مضامین کی اشاعت کے بعد ایک اردو صحافی مجھ سے ملے ۔ انھوں نے کہا کہ " لوگوں کا خیال ہے کہ آپ حکومت کی طرف سے ڈیپوٹ کیے گئے ہیں تاکہ فسادات کے معاملہ میں مسلمانوں کو قصور وار ثابت کریں ! "
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو صحافت کا ذہن کس قدر غیر تعمیری ہو چکا ہے ۔ حتیٰ کہ اب اگر کوئی شخص تعمیری بات کہے یا حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کرے تو اس کو لازمی طور پر مذکورہ بالا قسم کا تبصرہ سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔
آخری بات
اخلاقیات کے اعتبار سے ، اردو صحافت کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اردو صحافت مسلم مسائل کے ہم معنی بن گئی ہے ۔ دونوں ایسا لازم و ملزوم ہو گئے ہیں گویا مسلم مسائل کا نام اردو صحافت ہے اور اردو صحافت کا نام مسلم مسائل ۔
اب اردو صحافت کو صحیح معنوں میں اخلاقی معیار پر لانے کی ایک ہی لازمی شرط ہے ۔ وہ یہ کہ اس کو نام نہاد مسلم مسائل سے جدا کر دیا جائے ۔ موجودہ زمانہ میں اردو صحافت مسلم مسائل کا ضمیمہ بن گئی ہے ۔ اسی وابستگی کا یہ نتیجہ ہے کہ اردو صحافت نے ایک قسم کی وکیلانہ صحافت کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ وہ حقیقت پسندانہ صحافت نہ بن سکی ۔ اگر کسی طرح دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے تو اردو صحافت ایک فرقہ کی صحافت سے اوپر اٹھ کر قومی صحافت کا درجہ حاصل کر لے گی ۔ اس کی وہ کمزوریاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی جو اخلاقی اعتبار سے اس کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہفتہ وار بلٹز کا اردو ایڈیشن ہے ۔ اردو بلٹز کے مالک غیر مسلم لوگ ہیں اور وہ اس کو کسی قدر آزاد انداز میں چلاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج اردو بلٹز دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1986 All issues