متأخیر نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۲
متأخیر نہیں
میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا " تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو؟ " طالب علم نے جواب دیا " چار " ایک منٹ بعد طالب علم نے دوبارہ کہا " پروفیسر ، ا میں اپنا جواب بدل سکتا ہوں ؟ پروفیسر نے کہا " ہاں ضرور "۔ اس کے بعد پروفیسر نے اپنی گھڑی کی دیکھتے ہوئے کہا " مگر مجھے افسوس ہے کہ تمہارا مریض ۴۰ سیکنڈ پہلے مر چکا ہے ۔
ایک شخص جس کو دل کا دورہ پڑا ہو وہ نہایت نازک حالت میں ہوتا ہے۔ اس کو فوری طور پر دوا کی بھر پور خوراک دینا انتہائی ضروری ہے۔ اگر اس کو فوری طور پر بھر پور دوا نہ ملے تو اگلے لمحے کا تقاضا صرف یہ ہوگا کہ اس آدمی کو ڈاکٹر کے بجائے گورکن کے حوالے کیا جائے ۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ بعض معاملات اتنے نازک ہوتے ہیں کہ وہ بلا تاخیر درست کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں آدمی کو فی الفور قطعی فیصلہ لینا پڑتا ہے اگر آدمی فوراً بھر پور فیصلہ نہ لے سکے تو وہ یقینی طور پر ناکام رہے گا۔ اگلا لمحہ جو اس پر آئے گا وہ صرف اس کی حسرت میں اضافہ کرنے کے لیے ہوگا نہ کہ اس کی کامیابی کے باب کو مکمل کرنے کے لیے۔ زندگی کے سفر کی مثال ٹرین کے سفر کی ہے۔ ٹرین ہمیشہ مقرر وقت پر اسٹیشن پر آتی ہے۔ اور چند منٹ رک کر دوبارہ آگے کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف وہی شخص ٹرین میں اپنی جگہ پاسکتا ہے جو ضروری تیاری کے ساتھ ٹھیک وقت پر پلیٹ فارم پر موجود ہو۔ ورنہ ٹرین آئے گی اور اس کو لیے بغیر آگے چلی جائے گی۔ اسی طرح مواقع ہمیشہ اپنے وقت پر آتے ہیں۔ مگر مواقع کسی کے لیے ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں اور کسی کے لیے محرومی کا اعلان ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues