Al-Risala · July 1986 · page 11

ڈِیگال ازم

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱

ڈِیگال ازم

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم کو زندہ کرنے کے لیے فرد کو اپنے آپ کو ہلاک کرنا پڑتا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال (۱۹۷۰-۱۸۹۰) نے اس کی شاندار مثال پیش کی ہے ۔

ڈیگال دسمبر ۱۹۵۸ میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت افریقہ میں فرانس کے تقریباً ایک درجن مقبوضات تھے جن میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی ۔ خاص طور پر الجیریا میں یہ تحریک بہت شدت اختیار کر چکی تھی ۔ فرانس نے اس کو کچلنے کے لیے تقریباً ۲۵ لاکھ آدمی قتل کر دیے ۔ اس کے باوجود الجیریا میں آزادی کی تحریک دبتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی ۔ یہ صورت حال چارلس ڈیگال کے لیے سخت تشویشناک بن گئی ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں ، الجیریا کی جنگ کے مسائل ان کے لیے اس میں روک بن گئے کہ وہ مستقبل کی مثبت پالیسیوں (Positive policies) کے بارہ میں نقشہ بنانے سے زیادہ کچھ کر سکیں (جلد ۷، صفحہ ۹۷۲)

فرانس اپنے افریقی مقبوضات کو فرانس کا صوبہ (Province) کہتا تھا ۔ وہ ان کی زبان اور کلچر کو اس حد تک بدل دینا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسیسی سمجھنے لگیں ۔ مگر یہ منصوبہ فرانس کے لیے بہت مہنگا پڑا ۔ عملاً یہ ممالک فرانس کا صوبہ نہ بن سکے اور اس غیر حقیقت پسندانہ کوشش نے خود فرانس کو ایک کمزور ملک بنا دیا ۔ فرانس کی تمام بہترین طاقت مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہونے لگی اور فرانس نے یورپ کی ایک عظیم طاقت (Great power) ہونے کی حیثیت کھودی ۔

سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ افریقہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں فرانس ایٹمی دور میں پیچھے ہو گیا ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ چارلس ڈیگال نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کے لیے اس میں مانع ہو گئی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرے ۔ چنانچہ ڈیگال نے الجیریا کو آزاد کر دیا ۔ اور اس کے بعد مضبوط ایٹمی طاقت کو وجود میں لانے کی کوشش شروع کر دی جو فرانس کی عظیم حیثیت کے لیے نئی بنیاد بن سکے (جلد ۴، صفحہ ۹۰۵)

ڈیگال نے معاملہ کو قومی ساکھ یا ذاتی قیادت سے الگ ہو کر دیکھا ۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues

Printed page