تاریخی معیار
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
ورلڈ ستاروں اور سیاروں کی دنیا کو اپنی دوربینوں کے ذریعہ براہ راست دیکھتا ہے۔ اسی طرح وہ مائیکرو کاسمک ورلڈ بیکٹیریا اور مالیکیول کو اپنی خورد بینوں کے ذریعہ براہ راست دیکھ رہا ہے۔ ان تجربات سے اس کا جو ذہن بنتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ حقائق کا براہ راست تجربہ کرے ۔ اس اعتبار سے بھی اسلام ہی واحد مذہب ہے جو جدید ذہن کو اپیل کرنے والا ہے۔ دیگر تمام مذاہب میں خدا اور انسان کے درمیان واسطہ مقرر ہو گئے ہیں۔ کسی مذہب میں مذہبی پیشواؤں کا واسطہ کسی مذہب میں روحوں کا واسطہ، کسی مذہب میں خدا کے بیٹے اور خدا کے فرشتوں کا واسطہ ، وغیرہ۔ جدید انسان خدا سے براہ راست مربوط ہونا چاہتا ہے لیکن دیگر مذاہب اس کو صرف بالواسطہ انداز سے مربوط ہونے کا راستہ دکھاتے ہیں ۔
آج کی دنیا میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خدا سے براہ راست مربوط ہونے کا طریقہ بتا رہا ہے۔ اسلام کے نزدیک بندے اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونے کے لیے کسی تیسرے واسطہ کی ضرورت نہیں۔ آدمی جس وقت چاہے خدا کی طرف متوجہ ہو اور وہ اپنے آپ کو خدا کے ربط (Contact) میں پائے گا۔
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اور جب میرے بندے میرے بارہ میں پوچھیں تو میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے ۔
تاریخی معیار
خدا کی طرف سے جو پیغمبر آئے ان میں سے دو پیغمبر حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ تھے۔ ان دونوں پیغمبروں کا تعلق مصر کی تاریخ سے ہے۔ اس بنا پر جب بھی ان دونوں پیغمبروں کا ذکر آتا ہے تو قدرتی طور پر مصر کی تاریخ بھی اس سے وابستہ ہو جاتی ہے ۔
ان دونوں پیغمبروں کا ذکر بائبل میں بھی ہے اور قرآن میں بھی۔ بائبل جب حضرت یوسف کا ذکر کرتی ہے تو ان کے زمانہ کے بادشاہ کا نام وہ فرعون (Pharoah) بتاتی ہے۔ اسی طرح بائبل میں جہاں موسیٰ کا ذکر ہے وہاں بھی ان کے ہم عصر بادشاہ کا نام فرعون بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل کے نزدیک حضرت یوسف کے زمانہ میں جو بادشاہ مصر پر حکومت کر رہا تھا وہ بھی فرعون تھا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1986 All issues