مرکز اتحاد
الرسالہ، اگست ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱
لوگوں کو ایک ہونے اور مل کر کام کرنے کا سبق دیتے ہیں ۔ وہ ایک آواز پر حرکت کرنے کا عملی مظاہرہ ہیں ۔
مرکز اتحاد
حج اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا کی طرف سفر ہے ۔ عام انسان موت کے بعد خدا کے دربار میں حاضر ہوں گے ، مومن موت سے پہلے ہی اپنے آپ کو خدا کے دربار میں حاضر کر دیتا ہے ۔ دوسرے لفظوں کی خدا کے یہاں حاضری مجبورانہ حاضری ہے ۔ اور مومن کی خدا کے یہاں حاضری اختیاریانہ حاضری ۔ عرفات کے میدان میں بیک وقت ساری دنیا کے حاجیوں کا اجتماع یہی منظر پیش کرتا ہے ۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے : الحج عرفة (عرفہ ہی حج ہے)
تا ہم حج ایک جامع عبادت ہے ۔ اس میں دوسرے تمام پہلو بھی براہ راست یا بالواسطہ انداز میں جمع کر دیے گئے ہیں ۔ انھیں مزید فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ حج عالمی اسلامی اتحاد کا ذریعہ ہے کعبہ گویا وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد دنیا بھر کے خدا پرستوں کا عبادتی دائرہ قائم ہوتا ہے ۔ عرفات کی حاضری کا اصل پہلو ہی ہے جو اخروی ہے ۔ تاہم اس میں اہلِ اسلام کے اتحاد کا بھی گہرا راز چھپا ہوا ہے ۔ کیوں کہ اتحاد ایک مرکز پر جمع ہونے کا نام ہے ۔ مسلمان جب حج کے موقع پر اپنے رب کے گرد اکٹھا ہوتے ہیں تو اس عمل کے دوران وہ اس مرکزی نقطہ کو بھی دریافت کر لیتے ہیں جو ان کی کثرت کو وحدت میں تبدیل کر سکے ۔ وہ اپنی آخرت کار از پانے کے ساتھ اپنی دنیا کا راز بھی پا لیتے ہیں ۔
میرے سامنے دیوار پر بیت اللہ کی تصویر ہے ۔ وسیع مسجد کے درمیان کعبہ کی جانی پہچانی عمارت ہے اور اس کے چاروں طرف لاکھوں انسان گول دائرہ میں اپنے رب کے آگے جھکے ہوئے عبادت کر رہے ہیں ۔ یہ سالانہ اجتماعی نماز ہے جو ہر بار حج کے مہینہ میں ادا کی جاتی ہے ۔ اس میں دنیا بھر کے ۲۵ لاکھ سے زیادہ مسلمان شرکت کرتے ہیں ۔ یہ پوری طرح ایک مرئی واقعہ ہے اور اس کا فوٹو لیا جاسکتا ہے ۔
مگر کعبہ کو قبلہ بنا کر اس کے گرد نماز پڑھنے والے صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو حرم کعبہ میں دکھائی دیتے ہیں ، حرم کعبہ کے باہر کے مسلمانوں کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ تمام عرب کے لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1986 All issues