Al-Risala · January 1986 · page 39

نفاذ شریعت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۹

فيها ذكر الجنة والنار، حتى اذا تاب جنت اور جہنم کا بیان ہے۔ یہاں تک کہ جب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام۔ لوگ اسلام کے لیے ہموار ہوگئے تو حلال و حرام کے ولو نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ شراب نہ پیو لقالوا لا ندع الخمر ابداً ولو نزل تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا ابداً ۔ اگر یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا (بخاری باب تالیف القرآن) نہ چھوڑیں گے۔

شریعت کی یہ حکمت قرآن سے اور سیرت رسول سے انتہائی واضح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے پرجوش اسلامی قائدین اس شرعی حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے اور اسی لیے وہ ناکام رہے۔ ستمبر ۱۹۸۳ میں سوڈان میں سابق صدر نمَیری اور الاخوان المسلمون نے ملک میں کامل شراب بندی کا اعلان کیا۔ انھوں نے بعض دکانوں پر چھاپہ مار کر شراب کی کچھ بوتلیں حاصل کیں ۔ اور ان کو توڑ کر ان کی شراب دریائے نیل میں بہادی۔ مگر اس کے بعد یہ منظر دیکھنے میں نہیں آیا کہ دورِ نبوت کے مدینہ کی طرح سوڈان کی سڑکوں اور گلیوں میں بھی شراب بہائی جانے لگے۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر اسلام نے تدریج کے اصول پر شراب کو بند کیا تھا۔ جب کہ سوڈان کے اسلامی لیڈروں نے اچانک شراب کو بند کرنا چاہا۔ چنانچہ وقتی تالیوں کی گونج اور چند دن کی اخباری سرخیوں کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہو سکا۔ صرف ایک سال بعد سوڈان کی " اسلامی حکومت " ختم ہوگئی۔ اور اسی کے ساتھ اس کے اسلامی احکام بھی ۔

یہی حال موجودہ زمانہ میں ان تمام مسلم ملکوں کا ہوا ہے جہاں انقلابی مسلم لیڈروں نے اسلامی قوانین کو نافذ کرنا چاہا۔ اسلام کی حکمت نسخ کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے ان کی تمام کوششیں صد فی صد ناکام ہو کر رہ گئیں۔ لفظی ہنگاموں کے سوا ان کے حصہ میں اور کچھ نہ آیا۔ سید احمد شہید کی مثال مسلمان پچھلے تقریباً ڈیڑھ سو سال سے اسی ناکام کہانی کو دہرارہے ہیں۔ وہ "نسخ" کے قرآنی اصول پر عمل کیے بغیر اقدام کرتے ہیں اور پھر سراسر ناکام رہتے ہیں ۔

اس سلسلہ کا پہلا نمایاں واقعہ سید احمد شہید بریلوی (۱۸۳۱ - ۱۸۰۵) کی وہ تحریک تھی جس کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page