Al-Risala · September 1986 · page 6

جھوٹی بڑائی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۶

جھوٹی بڑائی

ایک صاحب کا قصہ ہے۔ ان کے دادا کامیاب تاجر تھے۔ مگر بعد کو ان کی تجارت ختم ہوگئی۔ والد اور والدہ کا بچپن میں انتقال ہو گیا ۔ مذکورہ صاحب کے حصہ میں باپ دادا کا مال تو نہ آیا البتہ یہ احساس انھیں وراثت میں ملا کہ " میرے باپ دادا بڑے آدمی تھے "

وہ ابھی نوجوان تھے کہ انھیں معلوم ہوا کہ قصبہ کے ڈاک خانہ میں پوسٹ مین کی جگہ خالی ہے۔ وہ درخواست دے کر پوسٹ مین ہو گئے۔ لوگوں نے انھیں مشورہ دیا کہ تمہاری تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک ہوئی ہے، تم کوشش کر کے ہائی اسکول کر ڈالو۔ اس کے بعد تم آسانی سے مقامی ڈاک خانہ میں پوسٹ ماسٹر ہو جاؤ گے۔ اسی کے ساتھ کچھ گھر کی کھیتی ہے۔ دونوں کو ملا کر آسانی سے تمہاری ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ مگر ان کے جھوٹے فخر کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کسی کا مشورہ مانیں۔ مزید یہ ہوا کہ جھوٹی بڑائی کے احساس کی بنا پر اکثر وہ ڈاک خانہ کے کارکنوں سے لڑ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک روز انھوں نے پوسٹ ماسٹر سے جھگڑا کر لیا اور کام چھوڑ کر چلے آئے ۔

پوسٹ آفس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ بے کار پڑے رہے۔ نہ کوئی دوسرا کام کیا اور نہ تعلیم حاصل کی ۔ ان کا مشغلہ صرف یہ رہ گیا کہ اپنی فرضی بڑائی کے تذکرے کریں اور اس کے ذریعہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے رہیں ۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد کھیتی سے کام چلتا رہا جس کو وہ بٹائی پر دیئے ہوئے تھے ۔ یہاں تک کہ ان کے چھ بچے ہو گئے۔ اب مسائل نے پریشان کرنا شروع کیا۔ تاہم ان کی جھوٹی بڑائی کا احساس دوبارہ اس میں رکاوٹ بنا رہا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں ۔ وہ اپنے رشتہ داروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہر اکرا ن سے لڑنے لگے۔ مگر اس غیر حقیقت پسندانہ رویہ نے صرف ان کی بربادی میں اضافہ کیا یہاں تک کہ ان کا ذہنی توازن خراب ہو گیا۔

موجودہ دنیا حقیقتوں کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقت سے مطابقت کر کے آپ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ حقیقت سے مطابقت نہ کریں تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ خدا کی اس دنیا میں جھوٹی بڑائی سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ یہاں جھوٹی بڑائی سے زیادہ تباہ کن کوئی ذہنیت نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1986 All issues

Printed page