Al-Risala · January 1986 · page 42

اسلوب کلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۴۲

وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو اس بات کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں کہ الفاظ کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو خیالات کی کم سے کم مقدار میں کھپا سکیں ۔

۲۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور کتاب آزادی ہند (India Wins Freedom) کا ایک باب منقسم انڈیا (Divided India) ہے۔ اس باب میں وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کی صبح کو سو کر اٹھے تو ہندوستان آزاد ہو چکا تھا۔ مگر ہماری آزادی اسی کے ساتھ ہمارے لیے ایک المیہ بھی لائی۔ دہلی میں آگ اور خون کا بازار گرم ہو گیا۔ مسلمان ہر طرف مارے جا رہے تھے اور ان کی جائدادیں تباہ کی جا رہی تھیں ۔

اس وقت سردار ولبھ بھائی پٹیل مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ تھے۔ دہلی کے مسلمانوں کے اوپر ہر روز جو حملے ہو رہے تھے اس کی توجیہہ سردار پٹیل نے یہ پیش کی کہ یہ ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے بچاؤ کا اقدام ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی کے مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی سے خطرناک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ دہلی کے مسلمانوں نے یہ ہتھیار اس لیے جمع کیے تھے کہ وہ ہندوؤں اور سکھوں پر حملہ کریں ۔ اگر ہندو اور سکھ پہل نہ کرتے تو مسلمان ان کو تباہ کر دیتے ۔

پولیس نے قرول باغ اور سبزی منڈی کے علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لی تھی اور کچھ ہتھیار برآمد کیے تھے۔ سردار پٹیل کے حکم سے یہ ہتھیار گورنمنٹ ہاؤس لائے گئے اور ہمارے معائنہ کے لیے کیبنٹ روم کے پاس ایک چیمبر میں رکھے گئے۔ جب ہم لوگ جمع ہوئے تو سردار پٹیل نے کہا کہ ہم کو سب سے پہلے چیمبر میں چلنا چاہیے اور وہاں مسلم گھروں سے برآمد کیے ہوئے ہتھیاروں کو دیکھنا چاہیے۔ ہم وہاں پہونچے تو ہم نے دیکھا کہ میز کے اوپر کئی درجین چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ یہ سبزی کاٹنے کی یا قلم بنانے کی یا جیسی چھریاں تھیں ۔ ان میں بہت سی زنگ آلود تھیں۔ کتنوں کا دستہ ٹوٹا ہوا تھا۔ کچھ معمولی قسم کے لوہے کے چھڑ یا لوہے کے ٹکڑے تھے۔ کچھ ٹوٹے ہوئے پانی کے پائپ تھے۔ سردار پٹیل کے مطابق یہ وہ ہتھیار تھے جن کو دہلی کے مسلمانوں نے اس لیے جمع کیا تھا تاکہ وہ ہندوؤں اور سکھوں کا خاتمہ کر سکیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل) نے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page