شماره ۱۱۹
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۲
یہ انسان
موجووہ زمانہ کا ہر آدمی انتہائی حد تک بینا ہے اور اسی کے ساتھ انتہائی حد تک نابینا بھی ۔ آج کے انسان کا حال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کی غلطیوں کو انتہائی باریکی کے ساتھ دیکھ لیتا ہے اور اپنی غلطیوں کو دیکھنے کے لیے وہ بالکل اندھا بنا ہوا ہے ۔
آج کی دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ عام ہے وہ احتساب غیر ہے اور جو چیز سب سے زیادہ کم ہو گئی ہے وہ احتساب خویش ہے ۔ بظاہر کوئی مذہبی ہے اور کوئی غیر مذہبی ۔ کوئی اسلام کا علم بردار ہے اور کوئی غیر اسلام کا علم بردار ۔ مگر اس اعتبار سے لوگوں میں کوئی فرق نہیں کہ لوگوں کو دوسروں کی کو تاہیاں ضرورت سے زیادہ دکھائی دیتی ہیں ۔ اور اپنی کوتاہی ان کو بہت در سرورت بھی دکھائی نہیں دیتی ۔
لوگ دوسروں کی غلطیوں کا تذکرہ کرنے میں کیوں اتنا زیادہ دل چسپی لیتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کی غلطیوں کا تذکرہ کر کے اپنی بڑائی کے جذبے کو تسکین ملتی ہے ۔ اس طرح آدمی یہ جھوٹی تسلی حاصل کرتا ہے کہ دوسرے لوگ برے ہیں اور میں اچھا ہوں ۔ دوسرے غلطیاں کرتے ہیں اور میں غلطیوں سے پاک ہوں ۔
اس جھوٹی تسلی میں آدمی صرف اس لیے پڑا ہوا ہے کہ اس کو یہ معلوم نہیں کہ اصل مسئلہ دوسروں کا نہیں بلکہ خود اپنا ہے ۔ بھوک جب آدمی کو تڑپاتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ سارا مسئلہ اپنی ذات کا ہے ۔ اسی طرح جب قیامت آئے گی اور تمام حقیقتیں کھل جائیں گی ، اس وقت آدمی جان لے گا کہ سارا مسئلہ اپنی ذات کا تھا نہ کہ دوسرا دل کا ۔
آج آدمی جہنم سے دور ہے اس لیے وہ دوسروں کے بارہ میں الفاظ کے دریا بکھیر رہا ہے ۔ مگر قیامت میں جب دہ جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے سامنے کھڑا ہو گا تو وہ سب کچھ بھول جائے گا ۔ اس وقت وہ صرف ایک مسئلہ کو جانتا ہو گا ۔ اپنے گناہوں کو کس طرح مٹائے ، اپنے آپ کو کس طرح جہنم سے محفوظ رکھے ۔
عقل مند آدمی وہ ہے جو آنے والے کل کو آج دیکھ لے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues