اپنی دلیل آپ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۴
اپنی دلیل آپ
قرآن کے بہت سے حصے ایسے ہیں جو بظاہر صرف بیان معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی ان بیانات کے ساتھ ان کی دلیل مذکور نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بیانات اپنی دلیل آپ ہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ ماوراء انسانیت ہیں۔ یہ صرف خدا ہے جو ان الفاظ میں کلام کر سکتا ہے ، کوئی اور نہیں جو ان الفاظ میں کلام کر سکے ۔
" اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا " (ابراہیم ۳۲) یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ایک خدا کے سوا کسی اور کے حق میں کبھی بولا نہ جا سکا۔ اور یہی اس کی صداقت کی یقینی دلیل ہے۔ کیوں کہ اتنا بڑا بیان وہی دے سکتا ہے جو واقعہ خالق کائنات ہو۔ کسی دوسرے کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اتنا بڑا بیان دینے کی جرات کر سکے۔ چنانچہ ساری معلوم تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے یہ کہنے کی ہمت کی ہو کہ " میں نے زمین و آسمان کو بنایا ہے " " اگر اللہ قیامت تک تمہارے اوپر رات کر دے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تم کو روشنی دے۔ اور اگر اللہ قیامت تک تمہارے اوپر مستقل دن کر دے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہارے لیے رات لے آئے " (القصص ۷۱) ان الفاظ کا بولنا اللہ کے سوا کسی کے لیے سزا وار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کوئی شخص جرات نہ کر سکا کہ وہ یہ الفاظ اپنی زبان سے نکالے۔ اور یہی اس بات کی کافی دلیل ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے ۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ بے شک اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا ان کو تھامنے والا نہیں (فاطر (۴۱) ان الفاظ پر غور کیجیے۔ کون ہے جو ان الفاظ کو بولنے کی جرات کر سکے ۔ یہ الفاظ وہی بول سکتا ہے جو زمین و آسمان سے بلند ہو، جو فی الواقع یہ طاقت رکھتا ہو کہ وہ زمین و آسمان کو پوری طرح قابو میں رکھ سکے۔ کوئی شخص فرضی طور پر یہ الفاظ نہیں بول سکتا۔ یہ خدائی کلام ہے اور خدائی کلام صرف خدا ہی بول سکتا ہے ۔ کوئی انسان خدائی کلام اپنے منہ سے نکالنے پر قادر نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues