Al-Risala · October 1986 · page 6

نگرانی میں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۶، صفحہ ۶

نگرانی میں

امریکی صدر کی رہائش گاہ کا نام و ہائٹ ہاؤس ہے ۔ یہاں دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور انسان رہتا ہے ۔ وہ ایک بٹن دبا کر ہلی کاپٹر بلا سکتا ہے ۔ دوسرا بٹن دبا کر عالمی جنگ چھیڑ سکتا ہے ۔ مگر خود وہ دنیا کا سب سے زیادہ مجبور انسان ہے۔ وائٹ ہاؤس میں تحفظ (Security) کے لیے اتنے سخت انتظامات ہیں کہ صدر کو احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر حفاظت نہیں ہے بلکہ زیر نگرانی ہے :

He is under surveillance rather than under protection. سابق صدر امریکہ کی ایک نوجوان لڑکی نے اپنی کتاب (سووینیر) میں لکھا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں قیام کے زمانہ میں وہ کسی لڑکے سے محبت کا تعلق قائم نہ کر سکی کیوں کہ وہاں تخلیہ میں اس کے لیے کچھ کرنا ممکن نہ تھا۔ اس نے اپنا یہ ذہن بنایا کہ وہ جب تک وائٹ ہاؤس میں ہے وہ شادی نہیں کرے گی ۔ قارئین کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ ذرا ان تاثرات کا اندازہ کیجیے جب کہ ایک دوست لڑکے کو دروازہ پر شب بخیر کہنا ہو، جہاں روشنیوں کا طوفان ہو اور خفیہ پولیس کا آدمی بھی اسی کے ساتھ موجود ہو ۔ ایسے موقع پر آپ ہاتھ ملانے سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتے ، اور وہ نسبت کا معاملہ طے کرنے کے لیے کافی نہیں : One of the young daughters of the former President wrote in her book, Souvenir, that she could not make any love affair during her stay in the White House as there was nothing she could do in private. She had made up her mind not to marry while she lived in the White House. She asked the reader to consider the effect of saying good night to a boy at the door, in a blaze of floodlights, with a Secret Service man in attendance. There is not much you can do except shake hand, and that's no way to get engaged. The Hindustan Times, May 31, 1986 p. 17 وائٹ ہاؤس کے آدمی کو صرف یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ دیکھا جارہا ہے ، اس کو یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ اس کو سزا ملے گی ، اس کے باوجود وہ اس قدر محتاط ہو جاتا ہے ۔ پھر جو شخص اس احساس سے دبا ہوا ہو کہ خدا اس کو ہر لمحہ دیکھ رہا ہے وہ کتنا زیادہ محتاط ہو جائے گا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1986 All issues

Printed page