ایک عام برائی
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۳
ایک عام برائی
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو نسل چلی، بعد کو اس کی دو شاخیں ہوگئیں۔ ایک بنی اسرائیل، دوسرے بنی اسماعیل ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جو پیغمبر آئے وہ سب بنی اسرائیل میں آئے ۔ اس کے بعد آخری پیغمبر محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بعثت بنی اسماعیل میں ہوئی۔ بنی اسرائیل (یہود) نے آخری پیغمبر کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ فعل حسد کی وجہ سے ہے۔ ان کو اس بات کی جلن ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل کو کیوں اپنے فضل سے نوازا (ام يحسدون الناس علی ما آتاهم الله من فضله، النساء ۵۴) اس سے معلوم ہوا کہ وہ اخلاقی برائی جس کو حسد کہا جاتا ہے وہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آدمی اپنے سوا دوسرے کی بڑائی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔
یہ ایک عام بات ہے کہ کسی چھوٹے آدمی کی برائی کی جائے تو سننے والوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کسی بڑے آدمی کی برائی کی جائے تو ہر آدمی اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص کو ماحول میں کوئی بڑائی حاصل ہو جائے تو اس کے خلاف ہر الٹی بات کو لوگ بلا تحقیق مان لیتے ہیں اور فوراً اس کا چرچا کرنے لگتے ہیں۔ آپ ایک دولت مند کی برائی بیان کریں ۔ ایک عزت یافتہ شخص کو بے عزت کرنے والی باتیں کریں۔ ایک صاحبِ اقتدار کے ظلم کی داستانیں لوگوں کو سنائیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ لوگ فوراً آپ کی بات مان رہے ہیں۔ بہت جلد آپ کے گرد لوگوں کی بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو گئی ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی کی بڑائی کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ اپنے سوا کسی اور کو بلند مقام پر دیکھنا نہیں چاہتا۔ اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی ماحول میں کسی شخص کو کسی اعتبار سے بڑائی کا مقام حاصل ہوتا ہے تو تمام لوگوں کے دل میں اس کے خلاف کھلا یا چھپا حسد پیدا ہو جاتا ہے ۔ ہر ایک اندر سے یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو اس کی بڑائی کے مقام سے گرائے ۔ چنانچہ جب کوئی شخص ایسی بات کہتا ہے جس سے بڑے کی بڑائی مجروح ہوتی ہو تو فوراً لوگ اس کو اپنے دل کی بات سمجھ کر مان لیتے ہیں، وہ فوراً ایسے آدمی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں ۔
یہ مشغلہ آج لوگوں کو بڑا لذیذ مشغلہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ یقینی طور پر ابلیس لعین کی سنت ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ ان کا وہی انجام ہو جو آدم کی بڑائی کو نہ ماننے کے نتیجہ میں ابلیس کا ہوا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues