Al-Risala · December 1986 · page 3

جوشِ عمل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۶، صفحہ ۳

جوشِ عمل

دورِ اول کے مسلمانوں میں اسلام کے لیے جو جوشِ عمل تھا ، وہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دورِ اول کے مسلمانوں کے لیے اسلام ایک دریافت تھا، اسلام کی صورت میں انھوں نے ایک نئی حقیقت پائی تھی۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے اسلام محض ایک تقلیدی عقیدہ ہے۔ وہ انھیں وراثتی طور پر مِل گیا ہے، نہ کہ اس کو انھوں نے ایک نئی اور برتر حقیقت کے طور پر دریافت کیا ہے۔

ایک نئی چیز کا پانا آدمی کے لیے سب سے زیادہ اہم واقعہ ہوتا ہے ۔ وہ آدمی کی فکر و عمل کی صلاحیتوں کو آخری حد تک جگا دیتا ہے۔ جو آدمی اپنی زندگی میں کوئی نئی چیز نہ پائے، اس کی مثال سوئے ہوئے آدمی کی سی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی زندگی میں کوئی نئی چیز پا جائے وہ گویا وہ آدمی ہے جو نیند سے جاگ اٹھا۔ وہ بے حرکت کی حالت سے حرکت کی حالت میں آ گیا ۔

موجودہ زمانہ میں نفسیات کے میدان میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے بھی اس نقطۂ نظر کی تائید ہوتی ہے۔ ان تحقیقات میں سے ایک تحقیق اس موضوع پر تھی کہ وہ کیا چیز ہے جو کسی آدمی کو عام لوگوں سے زیادہ عمل کرنے پر اکساتی ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (نمبر۱۹) میں اس موضوع کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا گیا ہے :

psychological experiments in the fields of motivation and learning have disclosed in the power of novelty as an inducement to action. (III/227)

حرکت اور علم کے میدان میں نفسیاتی تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ نیا پن اپنے اندر عمل پر ابھارنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں زندہ ایمان پیدا کرنے کی ایک ہی تدبیر ہے۔ یہ کہ ان کے ایمان کو دوبارہ ان کے لیے دریافت کے ہم معنی بنا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1986 All issues

Printed page