مایوسی نہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۹
مایوسی نہیں
ابراہام لنکن (۱۸۶۵ - ۱۸۰۹) جدید امریکہ کا معمار ہے۔ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں اس کو بہت نمایاں مقام حاصل ہے۔ مگر لنکن کو یہ کامیابی اچانک نہیں ملی۔ اس کامیابی تک پہنچنے کے لیے اس کو ناکامی کے ان گنت زینے طے کرنے پڑے۔ لنکن کی زندگی کو ایک شخص نے چند الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے :
ایک آدمی1831 میں تجارت میں ناکام ہو گیا۔ اس نے 1832 میں سیاست میں شکست کھائی۔ 1834 میں دوبارہ اس کو تجارت میں ناکامی ہوئی ۔ 1841 میں اس پر اعصاب کا دورہ پڑا ۔ 1843 میں وہ الیکشن میں کھڑا ہوا مگر ہا ر گیا ۔ ۵۸ ۱۸ کے الیکشن میں اس کو دوبارہ شکست ہوئی۔ لوگ اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ شخص کبھی کامیاب نہ ہوگا۔ مگر یہی وہ شخص ہے جو ۱۸۶۰ میں ابراہام لنکن کے نام سے امریکہ کا ۱۶ واں صدر منتخب ہوا۔ اس کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ جانتا تھا کہ شکست کو کیسے تسلیم کیا جائے ، عارضی طور پر نہ کہ مستقل طور پر (ستمبر ۱۹۷۲)
کامیابی ہمیشہ ناکامیوں کے بعد آتی ہے۔ اس دنیا میں فتح صرف اس شخص کے لیے ہے جو شکست کو مان لینے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور ناکامی کا اعتراف ہی کامیابی کی اصل قیمت ہے۔ جو لوگ یہ قیمت ادا نہ کریں وہ کبھی اس دنیا میں کامیابی کی منزل کو نہیں پہنچ سکتے ۔
اس دنیا میں کامیابی کا راز صرف ایک ہے۔ یہ کہ آپ ناکامی کو وقتی واقعہ سمجھیں ۔ ناکامی کو دوبارہ کامیابی میں بدلنے کے لیے آپ کبھی اپنا حوصلہ نہ کھوئیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues