Al-Risala · February 1986 · page 12

خدا کا ذکر

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲

خدا کا ذکر

من قیس بن ابی حازم قال کان عبد الله بن رواحة واضعا راسه في حجر امراته فبكى فبكت امرأته - قال ما يبكيك قالت رأيتك تبكي فبكيت قال اني ذكرت قول الله عز وجل (وان منكم الا واردها)

فلا ادري أنجو منها ام لا۔ وفي رواية وكان هو بيضاً (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث، صفحه ۱۳۴) قیس بن حازم تابعی حضرت عبد اللہ بن رواحہ صحابی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ اپنا سر اپنی بیوی کے گود میں رکھے ہوئے تھے کہ وہ روپڑے ۔ ان کی بیوی بھی رونے لگیں۔ انھوں نے اپنی بیوی نے کہا کہ تم کو کس چیز نے رلایا۔ بیوی نے کہا کہ میں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو میں بھی رونے لگی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ سے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد آیا کہ تم میں سے ہر شخص جہنم سے گزرے گا (وریم) تو مجھے نہیں معلوم کہ میں اس سے بچ جاؤں گا یا نہیں بچوں گا۔ ایک روایت کے مطابق اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ بیمار تھے۔

حضرت عبداللہ بن رواحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ۔ ایک جلیل القدر صحابی کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وہ چیز کیا ہے جس کو شریعت میں ”ذکر" کہا جاتا ہے ۔ ذکر الفاظ کے ورد کا نام نہیں، وہ ایک معنوی طوفان کا نام ہے جو ایک بندے کے سینے میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے ۔

ایک شخص جو واقعۃً اللہ پر یقین رکھتا ہو وہ جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ اس کی عظمت سے دہل اٹھتا ہے۔ وہ اس کے سامنے پستی کے تصور سے کانپنے لگتا ہے ۔ اس وقت اس کے اندر کی کیفیت بے اختیارانہ طور پر لفظوں کی صورت میں ڈھل جاتی ہے ۔ یہی ذکر ہے ۔ خدا کا ذکر خدا کو اپنے سینہ میں اتارنے کا نام ہے، ایسے خدا کو جس کی برداشت پہاڑ بھی نہیں کر سکتے ۔ اس طوفان خیز لمحہ میں جور باقی کلمات انسان کی زبان سے نکلتے ہیں انھیں کا نام ذکر ہے ۔ ذکر خدا کو پانے کا نام ہے نہ کہ کسی قسم کے الفاظ کو پانے کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page