Al-Risala · February 1986 · page 14

قدردانی

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴

قدردانی

چارلس ڈارون (۱۸۸۲۔ اپنے اسکول کے زمانہ میں اچھا طالب علم نہ تھا۔ اس کے والد نے ایک بار اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ " تم بس شکار کھیلتے رہتے ہو اور کتوں کے ذریعہ چوہا پکڑنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے ہو " اسکول کی تعلیم کے بعد اس کے والد نے اس کو ڈاکٹری کے کورس میں داخل کیا مگر وہ ڈا کٹری کا کورس مکمل نہ کر سکا۔ اس کے بعد اس نے پادری بننے کا ارادہ کیا اور کیمبرج یونیورسٹی میں دینیات میں داخلہ لیا۔ مگر یہاں بھی وہ ناکام رہا۔

کیمبرج کے قیام کے زمانہ میں ڈارون کو تاریخ طبیعی (Natural history) کے موضوع سے دل چسپی پیدا ہوئی ۔ یہ مضمون اگر چہ اس کے ڈگری کورس کے نصاب میں شامل نہ تھا۔ تاہم ذاتی شوق کے تحت وہ اس کو پڑھتا رہا۔ تاریخ طبیعی اور علم طبقات الارض سے دل چسپی نے ڈارون کو پروفیسر ہنسلو (J. S. Henslow) تک پہنچایا ۔ پروفیسر ہنسلو نہایت علم دوست اور وسیع النظر آدمی تھے۔ ان سے تعلق ہی ڈارون کے لیے پہلا زینہ تھا جس نے اس کو علم کی دنیا میں چوٹی کے مقام پر پہنچا دیا۔

اس زمانہ میں برطانی حکومت نے اپنے بحریہ کے ایک خاص دخانی جہاز کو جس کا نام بیگل (Beagle) تھا تحقیقات کی مہم پر روانہ کیا۔ یہ جہاز بحر الکاہل اور اٹلانٹک کے ساحلی ملکوں کا پانچ سال (۳۶ - ۱۸۳۱) تک سروے کرتا رہا۔ پروفیسر ہنسلو نے اپنے ذاتی اثرات سے کام لے کر ڈارون کو اس جہاز میں جگہ دلادی ۔ ڈارون اس جہاز میں تاریخ طبیعی کے عالم (Naturalist) کے طور پر مقرر کر دیا گیا۔ اس طرح اس کو موقع مل گیا کہ دنیا کے مختلف حصوں کا عملی مشاہدہ کر سکے۔ ڈارون اس وقت بطور خود بیگل میں جگہ نہیں حاصل کر سکتا تھا۔ یہ صرف پروفیسر ہنسلو تھے جنھوں نے نوجوان ڈارون کی صلاحیت کو پہچانا اور اس کو اس تاریخی کشتی میں سفر کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ اس پانچ سالہ مدت میں ڈارون نے مختلف ملکوں کو دیکھا اور ساحل پر واقع جنگلوں اور پہاڑوں کے سفر کیے۔ کہیں پیدل اور کہیں گھوڑے پر وہ میلوں تک اندر گیا اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کیا اور ان کے نمونے جمع کیے۔ ساتھ ہی اس نے پتھروں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page