Al-Risala · February 1986 · page 16

اعتراف نہیں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۶

اعتراف نہیں

نئی دہلی کے ایک خاندان کو ٹیلی گرام ملا۔ اس کا مضمون یہ تھا :

Nani expired

یعنی نانی کا انتقال ہو گیا۔ یہ ٹیلی گرام پڑھ کر گھر کے سب لوگ پریشان ہو گیے۔ پورا خاندان فوری طور پر اس مقام کے لیے روانہ ہو گیا جہاں مذکورہ نانی رہتی تھیں اور جہاں سے ٹیلی گرام موصول ہوا تھا۔ یہ لوگ جب گھبرائے ہوئے اور کافی پیسہ خرچ کر کے مذکورہ مقام پر پہونچے تو وہاں نانی صاحبہ زندہ سلامت موجود تھیں ۔

معلوم ہوا کہ ٹیلی گرام کا اصل مضمون یہ تھا کہ نانی پہونچ گئیں Nani reached مگر وہ موصول کرنے والے کلرک کی غلطی سے نانی انتقال کر گئیں (Nani expired) بن گیا۔ ٹائمس آف انڈیا (۶ دسمبر ۱۹۸۳)

ٹیلی گراف آفس کو اس افسوسناک غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی۔ مگر اس کا جو نتیجہ ہوا وہ اخبار کے الفاظ میں یہ تھا :

The P&T department has not yet accepted the charge of ineffi- ciency, regrets only the inconvenience, if any. The Times of India, 7.12.1985 محکمہ ڈاک و تار نے اپنی غفلت تسلیم نہیں کی۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اگر اس کی وجہ سے کوئی زحمت ہوئی ہو تو اس کو اس کا افسوس ہے ۔

اوپر کی مثال صرف محکمہ تار کی مثال نہیں ، یہی موجودہ زمانہ میں تمام لوگوں کا حال ہے۔ "میں نے غلطی کی" صرف چار الفاظ کا ایک جملہ ہے مگر چار الفاظ کا یہ جملہ ادا کرنے والے چار انسان بھی مشکل سے آج کی دنیا میں ملیں گے۔ لوگوں کی ڈکشنری میں صرف یہ الفاظ ہیں کہ "تم غلطی پر ہو"۔ لوگوں کی ڈکشنری ان الفاظ سے خالی ہے کہ "میں غلطی پر ہوں"۔ آج کا انسان کسی قیمت پر اپنی غلطی کو نہیں مانتا ، خواہ اس کی خاطر اسے حقیقت کو ذبح کرنا پڑے۔ خواہ ایک غلطی کو نہ ماننے کی کوشش میں وہ مزید بے شمار غلطیاں کرتا چلا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page