یونانی علوم
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
سے پانچ بوجھ کے بقدر کتا بیں لیں اور ان کو (اخبار الحکماء) مامون کے پاس بھیج دیا۔
عیسائی راہب کا خیال صحیح ثابت ہوا۔ دوسری صدی ہجری میں اس قسم کی کتابوں کے اثر سے مسلمان قرآن کے فطری اسلوب سے ہٹ گئے۔ قرآن میں استدلال کی بنیاد حقائق فطرت پر رکھی گئی تھی، قدیم فلسفیانہ کتابوں سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے استدلال کی بنیاد قیاسی منطق پر رکھ دی۔ یہ طریقی بحث اور طرز استدلال سراسر قرآن سے ہٹا ہوا تھا۔ مگر بعد کو وہ مسلمانوں کے دینی تعلیم کے نصاب میں شامل ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن گیا۔ اس واقعہ کو اب ایک ہزار سال سے زیادہ ہورہے ہیں مگر آج بھی مسلمان منطق و فلسفہ کے اس طلسم سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔
مسلمانوں کے اوپر اس غیر اسلامی علم کے ابدی تسلط کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی صدیوں کے بعد مسلمانوں کے جو علوم مدون ہوئے وہ تمام تر اسی منطقی اسلوب میں مدون ہوئے۔ یہ طرز ہمارے علوم میں اتنا زیادہ دخیل ہوا کہ اب ایک شخص جو قدیم منطق میں کافی درک نہ رکھتا ہو وہ ان کو سمجھ نہیں سکتا۔ مثلاً شرح ملا علم نحو کی کتاب ہے اور ہمارے مدارس کے نصاب میں داخل ہے۔ مگر منطق کی اصطلاحات اور منطقی طرز بحث کو جانے بغیر اس کتاب کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یہی حال فنون اسلامی کی دوسری کتابوں کا ہے۔ اس طرح منطق اسلامی علوم کی فنی تدوین میں داخل ہوئی اور بالآخر وہ اسلامی کتب خانہ کا ایک مستقل جزو بن گئی ۔ اب غیر ضروری طور پر یہ سوال سامنے آگیا کہ قدیم منطق کو چھوڑنا ہے تو اسلام کی قدیم فنی کتب کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج درس نظامیہ میں معقولات کا عنصر اتنا چھا گیا ہے کہ خود اسلامی علوم اس کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues