Man Know Thyself
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰
ایک سفر
ایک عالمی اسلامی کانفرنس (۱۵ ستمبر تا ۲۰ ستمبر ۱۹۸۶) میں شرکت کے لیے افریقہ کا سفر ہوا۔ یہ سفر میرے تمام سفروں میں سب سے زیادہ واقعات سے بھرا ہوا (Eventful) سفر تھا۔ اگر اس کی تمام باتیں لکھی جائیں تو شاید پورا الرسالہ بھر جائے گا۔ تاہم میں اس کی مختصر روداد بیان کروں گا۔ ۱۲ ستمبر کی شام کو دہلی کے نئے ہوائی اڈہ (اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایر پورٹ) پہنچا۔ جدید طرز کا یہ ایر پورٹ دو ہزار ہیکٹر رقبہ میں بنایا گیا ہے۔ اس کا اضافہ شدہ بجٹ ۱۰۰ کروڑ روپیہ تھا۔ اگر چہ اس کی آخری تکمیل ابھی باقی ہے۔ تاہم اس کا رسمی افتتاح یکم مئی ۱۹۸۶ کو کیا گیا ہے۔ اب پالَم کا قدیم ہوائی اڈہ ملک کی اندرونی پروازوں کے لیے خاص کر دیا گیا ہے۔ نیا ہوائی اڈہ جب آخری طور پر مکمل ہوگا تو وہ سالانہ ۳۵ ملین مسافروں کو چڑھا اور اتار سکے گا۔ یہاں بیک وقت ایک سو ہوائی جہازوں کے کھڑے ہونے کے لیے جگہ ہوگی۔ نئے ہوائی اڈہ کی بلڈنگ اور اس کا نظام جدید بین الاقوامی معیار پر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ یہاں بیک وقت ۴۱ جہاز اتر سکتے ہیں یا روانہ ہو سکتے ہیں۔ پانی کے معقول انتظام کے لیے ۴۲ ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں۔ سامان منتقل کرنے کی پٹی (Conveyer belt) کو جدید طرز کا بنایا گیا ہے تاکہ مسافروں کو اپنا سامان لینے کے لیے کم سے کم انتظار کرنا پڑے۔ قدیم ہوائی اڈہ پر صرف ۲۲ کاؤنٹر تھے، یہاں ۸۰ کسٹم کاؤنٹر بنائے گئے ہیں۔ ٹیلی فون کی ۵۰۰ لائنیں ہیں جو الیکٹرانک سسٹم پر قائم ہیں۔ یہاں مشینی زینہ (Escalator) لگایا گیا ہے۔ ہوائی جہاز پر چڑھنے اور ہوائی جہاز سے اترنے کے لیے اس سے پہلے قدیم طرز کی سیڑھی (Tarmac) ہوتی تھی۔ اب جدید طرز کے معلق پل (Aero-bridge) بنائے گئے ہیں جو جہاز کے دروازہ سے جوڑ دیے جاتے ہیں۔ وغیرہ۔ تاہم کھلی سیڑھی سے چڑھنے اترنے میں جو رومانی منظر ہوتا ہے وہ بند قسم کے ایر وبرج سے چڑھنے اور اترنے میں موجود نہیں۔ نیز کار کردگی کے اعتبار سے صورت حال زیادہ اطمینان بخش نہیں۔ مثلاً اندرا گاندھی ایر پورٹ سے ہم نے اپنے دفتر میں ٹیلی فون کرنا چاہا۔ مگر بار بار نمبر ملانے کے باوجود ایسا ہوا کہ دوسری طرف سے "ہیلو" کی آواز آتی تھی ۔ مگر ہماری آواز نہیں