روحانی تسکین
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹
فلسفہ کا قائل تھا جس نے مجھے اس قابل بنائے رکھا کہ میں خارجی دنیا میں حسن کو دیکھ سکوں ۔ ریاضیات اور ستاروں نے مجھے اس وقت تسکین دی جب کہ انسانی دنیا آسائش سے خالی نظر آتی تھی ۔ مگر میرے فلسفہ میں تبدیلی نے اس قسم کی تسکین کو مجھ سے چھین لیا ۔ خودی نے مجھ کو بالکل مضمحل کر دیا ۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ میں نے طبیعیات کی ان تشریحوں کو پڑھا جو ایڈنگٹن جیسے لوگوں نے کی ہیں ۔ مجھ کو نظر آیا کہ جس چیز کو ہم نے فطرت کے قوانین سمجھا تھا وہ محض الفاظ کا معاملہ تھا ۔ اور طبیعیات حقیقت کسی خارجی دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ میں اس کو پوری طرح مانتا ہوں ۔ مگر یہ میرے لیے ایک کا بوس بن گیا جو میرا پیچھا کر رہا تھا ۔ وہ میرے تخیلات پر برابر حملہ کر رہا تھا ۔
روحانی تسکین
جو سائنس خارجی دنیا کا علم دینے سے عاجز تھی وہ اس باطنی دنیا کا علم کیا دیتی جس کے بارہ میں اس نے گیلیلیو ہی کے زمانہ میں عملی طور پر اپنی نارسائی کا اعلان کر دیا تھا ۔ سائنس آدمی کو وہ جھوٹا اطمینان بھی نہ دے سکی جو مادی سطح پر بظاہر ہر ایک انسان کو حاصل ہوتا ہے ۔ اور ذہنی اور روحانی سطح کا اطمینان تو نہ اس کے بس میں تھا اور نہ کبھی اس نے اس کو دینے کا دعویٰ کیا ۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : الا بذكر الله تطمئن القلوب (سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے) یہی بات بائبل میں ان لفظوں میں آئی ہے : انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے منہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے (استثنا ۸ : ۳) حضرت مسیح نے اسی بات کو ان لفظوں میں فرمایا : لکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے (متی ۴:۴) انسان اپنے ساتھ ایک مخصوص نفسیات رکھتا ہے ۔ اس نفسیات سے وہ اپنے آپ کو جدا نہیں کر سکتا ۔ یہ نفسیات ایک برتر تسکین کی طالب ہے ۔ انسان کو مادی ساز و سامان کے ساتھ ایک عقیدہ اور ایک اصولِ حیات بھی درکار ہے۔ سائنس نے انسان کو جو کچھ دیا وہ اپنی آخری صورت میں بھی صرف مادی ساز و سامان تھا۔ سائنس انسان کو ایک قابلِ اعتماد عقیدہ نہ دے سکی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues