روحانی تسکین
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱
علم دیتی ہے۔ انسان دنیا کے آغاز و انجام کو جاننا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف درمیانی مرحلہ کے بارہ میں کچھ باتیں بتاتی ہے۔ انسان چیزوں کی معنویت کو دریافت کرنا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف اس کی ظاہری ہیئت کا پتہ دیتی ہے۔ انسان پھول کی مہک کو سمجھنا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف پھول کی کیمسٹری سے آگاہ کرتی ہے۔ انسان ذہن اور روح کی گہرائی میں اترنا چاہتا ہے مگر سائنس صرف جسم کے مادی اجزاء کا تجزیہ اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ انسان "خالق" کے بارہ میں جاننا چاہتا ہے اور سائنس اس کو صرف "مخلوق" کے بارہ میں بتاکر خاموش ہو جاتی ہے۔
یہی بات ہے جس کو ایک مغربی مفکر نے حسرت کے ساتھ اس فقرہ میں بیان کیا ہے ـــــ جو اہم ہے وہ ناقابل دریافت ہے ، اور جو قابل دریافت ہے وہ اہم نہیں : The important is unknowable, and the knowable is unimportant. اعلیٰ ذریعہ علم یہی بے اطمینانی جدید دور کے تمام باشعور انسانوں کا پیچھا کیے ہوئے ہے۔ ان کی اکثریت اگر چہ مذہب کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے مگر انھوں نے یہ بات مان لی ہے کہ جس سائنسی ترقی کو انھوں نے انسانیت کے مسئلہ کا حل سمجھ لیا تھا وہ انسانیت کے مسئلہ کا حل نہ تھا۔ برٹرینڈ رسل نے مغربی فکر و فلسفہ پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کے آخر میں ہم اس کے اعتراف کے حسب ذیل کلمات پاتے ہیں :
(Western philosophers) confess frankly that the human intellect is unable to find conclusive answers to many questions of profound importance to mankind, but they refuse to believe that there is some 'higher' way of knowledge, by which we can discover truths hidden from science and the intellect. Bertrand Russell, A History of Western Philosophy, 1979, p. 789 مغربی فلسفی کھلے طور پر اقرار کرتے ہیں کہ انسانی عقل کے بس سے باہر ہے کہ وہ ان بہت سے سوالات کا قطعی جواب پاسکے جو انسانیت کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر وہ اس کو ماننے سے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues