Al-Risala · August 1987 · page 3

بعد از وقت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۳

بعد از وقت

مسٹر بوکاسا (Jean Bedel Bokassa) ۱۹۲۱ میں پیدا ہوئے۔ وہ سنٹرل افریقہ کی فوج میں جنرل تھے ۔ وہ اپنے اس عہدہ پر قناعت نہ کر سکے، جنوری ۱۹۶۶ میں انھوں نے فوجی بغاوت کردی۔ اور صدر ڈاکو (David Dacko) کو معزول کرکے خود سنٹرل افریقہ کے صدر بن گئے۔ جنرل بوکاسا صدر یلو کاسا بننے پر بھی قانع نہیں ہوتے۔ کیوں کہ انھیں اندیشہ تھا کہ اگلے الیکشن میں وہ صدارت کھو دیں گے ۔ چنانچہ ۱۹۷۶ میں انھوں نے پارلیمنٹ کو ختم کرکے اپنے شہنشاہ (Emperor) ہونے کا اعلان کر دیا۔ اب انھوں نے تاج پہن لیا اور شہنشاہ بوکاسا کہے جانے لگے۔

تاہم مسئلہ اب بھی ختم نہیں ہوا۔ اب شہنشاہ بوکاسا کا سامنا اس چیز سے تھا جس کو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (3/1100) نے (Realities of French economic control) سے تعبیر کیا ہے۔ سنٹرل افریقہ کی قیمتی کانیں فرانس کے قبضہ میں تھیں ۔ نئے سیاسی نظام میں فرانس کو اپنا اقتصادی مفاد خطرہ میں نظر آیا۔ چنانچہ فرانس کی مدد سے ۱۹۸۰ میں ایک اور فوجی انقلاب ہوا اور مسٹر ڈیوڈ ڈاکو دوبارہ سنٹرل افریقہ کے صدر بنا دیے گئے۔ جون، ۱۹۸۷ میں بوکاسا کو پھانسی دیدی گئی۔ انقلاب کے بعد مسٹر بوکاسا ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ وہ اکتوبر ۱۹۸۶ میں دوبارہ سنٹرل افریقہ واپس آئے۔ ملک میں داخل ہوتے ہی انھیں گرفتار کر لیا گیا (انڈین ایکسپریس ۹ جون، ۱۹۸۷) ان کے اوپر بہت سے سنگین الزامات تھے ۔ مثلاً ۴۰ آدمیوں کو قتل کرانا ، سرکاری خزانہ سے کروڑوں ڈالر رشوت دینا وغیرہ ۔ اسٹیٹ پراسیکیوٹر مسٹر جبریل مبو دو (Gabriel Mboudou) نے بینگوئی (Bangui) کی کریمینل عدالت سے کہا تھا کہ مسٹر بوکاسا نے اپنے ۱۴سالہ زمانہ حکومت میں جو جرائم کیے ہیں اس کے بعد ضروری ہے کہ انھیں موت کی سزا دی جائے ۔ ۸ جون، ۱۹۸۷ کو مسٹر بوکاسا کی پیشی عدالت میں ہوئی تو انھوں نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ آج میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ معمولی شہری کی حیثیت سے پر امن زندگی گزاروں :

Today, I only want to live in peace as a simple citizen. آدمی اگر قناعت کا طریقہ اختیار کرے تو وہ کبھی ذلت اور ناکامی سے دوچار نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues

Printed page