ایک اعتراف
الرسالہ، اگست ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
کو غالب اور ان کے دشمنوں کو مغلوب کر دیتی ہے۔ حضرت ہود اور حضرت لوط کے واقعات اسی کی مثالیں ہیں۔
خدا کا دین ہر آدمی کی خود اپنی فطرت کی آواز ہے۔ دین حق کی دعوت دینا گویا آدمی کے دل کے دروازے پر دستک دینا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے اندر اگر کچھ بھی سنجیدگی ہو تو اس کا دل فطرت کی پکار کے آگے جھک جاتا ہے۔ اگر وہ باقاعدہ طور پر اس کو قبول نہ کرے تب بھی اس کے دل میں ایسے لوگوں کے حق میں نرم گوشہ پیدا ہو جاتا ہے جو خود اس کے دل کی دھڑکنوں کی زبان میں کلام کر رہے ہوں۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کم از کم انسانی اور اخلاقی سطح پر اسے ان لوگوں کی مدد کرنا چاہیے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ اسی نوعیت کی ایک مثال ہے ۔
تیسری شکل وہ ہے جس کو انتہائی شکل کہا جا سکتا ہے۔ یعنی مخاطب کا داعی کی بات سے اس حد تک متاثر ہونا کہ وہ اس پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو جائے ۔ یہ آخری صورت بھی تاریخ میں بار بار پیش آئی ہے اور جہاں یہ صورت پیش آجائے وہاں ہر قسم کا مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جاتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی تیسری صورت پیش آئی ۔ آپ کے ساتھ پیش آنے والی صورت اس نوعیت کی آخری کامل ترین مثال تھی ۔
ایک اعتراف
ٹامس کار لائل ( ۱۸۸۱ء - ۱۷۹۵ء) نے اسلامی دعوت کی تسخیری قوت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے :
یہ بات بہت کہی گئی ہے کہ محمد نے اپنا مذہب تلوار کے ذریعہ پھیلایا۔ تلوار یقینا، مگر آپ تلوار کہاں سے لائیں گے ۔ ہر نیا فکر اپنے آغاز میں لازمی طور پر ایک کی اقلیت میں ہوتا ہے ۔ وہ ابتداء صرف ایک انسان کے دماغ میں آتا ہے ۔ ساری دنیا میں صرف ایک آدمی اس کو ماننے والا ہوتا ہے ۔ تمام آدمیوں کے مقابلہ میں صرف ایک آدمی ۔ ایسی حالت میں اگر وہ ایک تلوار لے اور اس کے ذریعہ سے اپنے عقیدہ کو پھیلانے کی کوشش کرے تو اس کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1987 All issues