Al-Risala · September 1987 · page 8

قومی اسلام

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۸

قومی اسلام

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیاتی حالت بیان کرنا ہو تو اس کے لیے مولانا ابو الکلام آزاد کا قول موزوں ترین ہو گا ۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا :

میں مسلمان ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں

مولانا ابو الکلام آزاد کا یہ جملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی صحیح ترین تصویر ہے۔ مگر ان کی اسی صحیح تصویر میں ان کے المیہ کی پوری داستان بھی چھپی ہوئی ہے۔

مذکورہ فقرے پر غور کیجئے ۔ " مسلمان " کے لفظ کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآنی انسان ہو۔ اگر اس سے قرآنی انسان مراد لیا جائے تو اس سے وہ انسان مراد ہوگا جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ مگر مذکورہ فقرہ کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قرآنی مفہوم کے اعتبار سے یہ فقرہ بالکل لغو ہے۔ اس کی لغویت کو نہایت آسانی کے ساتھ اس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ اس کے الفاظ کو بدل دیا جائے ۔ آپ " مسلمان " کی جگہ " اللہ سے ڈرنے والا " رکھ دیجئے اور پھر اس کو اس طرح کہیے :

میں اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں اللہ سے ڈرنے والا ہوں دیکھیے، لفظ کو بدلتے ہی یہ فقرہ بالکل بے معنی معلوم ہونے لگا ۔ کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو واقعۃً اللہ سے ڈرتا ہو اور وہ اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کرے۔ کیوں کہ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے نہ کہ فخر۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کا مذکورہ فقرہ قرآنی مفہوم میں نہیں ہے۔ وہ یقینی طور پر کسی اور مفہوم میں ہے۔

یہ دوسرا مفہوم کیا ہے۔ یہ قومی اور تاریخی مفہوم ہے۔ اس فقرہ میں " مسلمان " کا لفظ اس قوم یا اس نسل کے ایک فرد کے لیے بولا گیا ہے جو ایک خاص تاریخ سے وابستہ ہے ۔ جس کے اسلاف نے ملک فتح کیے۔ بڑی بڑی عمارتیں بنا ئیں۔ شاندار تمدن پیدا کیا۔ دنیا میں اپنی سیاسی اور مادی عظمت قائم کی۔ اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ فقرہ بالکل درست نظر آئے گا۔ اس دوسرے مفہوم میں لینے کی صورت میں اس فقرہ کی وہ لغویت ختم ہو جائے گی جو پہلے مفہوم میں لینے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues

Printed page