فخر سے کہو کہ میں مسلمان ہوں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰
اقبال اور ابو الکلام اور ان کے جیسے دوسرے شاعروں اور خطیبوں نے مسلمانوں کو جو فکری سرمایہ دیا وہ ایک لفظ میں " فخر " تھا۔ انھوں نے اسلام کو فخر کی چیز بنا کر پیش کیا : ایک زوال یافتہ قوم کے لیے یہ ایک دل پسند غذا تھی ، چنانچہ مسلمانوں نے دوڑ کر اس کو قبول کر لیا ۔ آج تقریباً تمام مسلمان جس اسلام پر کھڑے ہوئے ہیں وہ یہی فخر والا اسلام ہے ، اور یہی ان کی تمام بربادیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔
ایک مثال لیجیے ۔ ایک بڑے شہر کے مسلم لیڈروں کو یہ تدبیر سوجھی کہ مسلمانوں کو اٹھانے کے لیے ان کے اندر فخر والا اسلام زندہ کریں ۔ انھوں نے مسلم محلوں کی دیواروں پر جلی حرفوں میں جگہ جگہ یہ جملہ لکھ دیا :
فخر سے کہو کہ میں مسلمان ہوں
اس کے بعد ہندؤوں کی باری تھی ۔ ان کے اندر بھی جوابی جوش پیدا ہوا ۔ انھوں نے شہر کی سڑکوں پر اور بھی زیادہ جلی قلم کے ساتھ ہر طرف یہ الفاظ لکھ ڈالے :
گورو سے کہو کہ میں ہندو ہوں
اس لفظی جنگ کے نتیجہ میں شہر کے ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوا ۔ یہاں تک کہ وہاں فرقہ وارانہ فساد ہو گیا ۔ اس کے برعکس اگر مسلمان ایسا کرتے کہ وہ شہر کی دیواروں پر یہ فقرہ لکھتے :
لوگو ، خدا سے ڈرو
تو نہ کوئی مقابلہ اور تناؤ ہوتا اور نہ فساد کی صورت پیدا ہوتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل ان کے خود ساختہ اسلام کے نتائج ہیں ۔ اگر وہ قرآن وحدیث والے اسلام کو پکڑ لیں تو ہر قسم کے فساد کی جڑ کٹ جائے ۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من تواضع رفعه الله ( جو تواضع اختیار کرے اللہ اس کو بلند کرتا ہے ) ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ترقی اور کامیابی کا راز تواضع ہے ۔ مگر مسلمانوں کا فخر پسندی کا ذہن عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے تواضع کا طریقہ اختیار نہیں کر پاتا ، اس لیے خدا کی دنیا میں اس کو سرفرازی بھی حاصل نہیں ہوتی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues