لوگو ، خدا سے ڈرو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
لوگوں کی رائے درست ہو جو ہندو کو ظالم قرار دیتے ہیں۔ مگر معاملہ کا ایک پہلو اور ہے۔ اور اس معاملہ میں یقینی طور پر سنجیدہ انسانوں کی دو رائے نہیں ہو سکتی۔
یہ دوسرا پہلو معاملہ کا عملی پہلو ہے۔ یعنی یہ کہ یہ فسادات ختم کس طرح ہوں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس طرح کے پیچیدہ نزاعات ہمیشہ یک طرفہ اقدام سے ختم ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ ۵۰ فی صد ذمہ داری ہندو لیں اور ۵۰ فی صد ذمہ داری مسلمان قبول کریں اور اس طرح دونوں کے مشترکہ فیصلہ سے فسادات کا خاتمہ کیا جائے تو ایسا مشترکہ فیصلہ کبھی ہونے والا نہیں۔ اسلام کی تاریخ میں مشرکینِ مکہ اور مسلمانانِ مدینہ کا جھگڑا صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کی شکل میں یک طرفہ طور پر معاملہ کو ختم کرنے پر راضی ہو گئے دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ اور جاپان کا جھگڑا صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ جاپان نے یک طرفہ طور پر امریکہ کی تمام شرائط کو مان لیا۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی طرح یک طرفہ تدبیر کے ذریعے ختم ہوں گے یا پھر وہ اسی طرح لامتناہی طور پر جاری رہیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس یک طرفہ اقدام کے لیے کون آگے بڑھے ۔ جواب بالکل واضح ہے۔ یک طرفہ اقدام پر ہمیشہ وہ فریق راضی ہوتا ہے جو تصادم کی صورت میں زیادہ نقصان اٹھارہا ہو۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں زیادہ بڑا نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے ۔ اس لیے مسلمانوں ہی کو اس معاملہ میں پہل کرنا چاہیے ۔
اس نقصان سے میری مراد مادی نقصان نہیں ہے، بلکہ آخرت کا نقصان ہے۔ اس معاملہ میں یقینی طور پر ہندو بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ یہ نقصان براہ راست کم اور بالواسطہ زیادہ ہے ۔ تاہم ہندو کا جو نقصان ہے وہ مادی اور اقتصادی اعتبار سے ہے۔ جب کہ مسلمان کا نقصان یہ ہے کہ وہ دعوت کے امکان کو کھو دیتا ہے ۔ ہر بار جب فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو ہندو مسلم تناؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس مسلسل تناؤ نے اس فضا کو برباد کر کے رکھ دیا ہے کہ ہندو کے سامنے مسلمان اپنی وہ دعوتی ذمہ داری ادا کریں جو آخری پیغمبر کا امتی ہونے کی حیثیت سے لازمی طور پر ان کے اوپر عائد ہوتی ہے ۔ اور جس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر خود مسلمانوں کی اپنی نجات بھی سخت مشتبہ ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues