عبرت و نصیحت کا مزاج
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹
بیٹھ گیا تھا اس کو گاڑی والے نے ڈنڈے سے مارا۔ اس کو دیکھ کر صحابی نے کہا، اِنَّ فِي هٰذَا لَعِبْرَةً (اس کے اندر بھی نصیحت ہے) یعنی جو جانور چلتا رہا وہ بچ گیا اور جس جانور نے سستی دکھائی اس پر مار پڑی۔ یہی معاملہ انسان کے ساتھ آخرت میں ہوگا۔ جو انسان خدا کی ڈیوٹی پوری کرے گا وہ نجات پائے گا اور جو انسان خدا کی ڈیوٹی نہیں پوری کرے گا اس کو سزا ملے گی۔ گاڑی کا واقعہ بظاہر ایک دنیوی واقعہ تھا مگر صحابی نے اس دنیوی واقعہ میں آخرت کی جھلک دیکھ لی۔ ایک مادی مشاہدہ صحابی کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر روحانی واقعہ میں ڈھل گیا۔ اسی فکری تبدیلی کا دوسرا نام نصیحت ہے ۔
اعتراف
موجودہ دنیا میں کسی آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل چیز دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کرنا ہے ۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اتنا زیادہ گم رہتا ہے کہ اس کو دوسرے کی خوبی دکھائی نہیں دیتی۔ مگر ایک سچا مومن اس کمزوری سے پاک ہوتا ہے ۔ ایمان در حقیقت خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کی دریافت ہے ۔ جب یہ ایمان کسی کو گہرائی کے ساتھ ملتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی اپنی ذات اس کی نظر سے حذف ہو جاتی ہے ۔ اس کا ایمان اس سے اس کی انا کو چھین لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے اندر اعتراف کا مادہ کمال درجہ میں پیدا ہو جاتا ہے دوسرے کا اعتراف کرنے میں آدمی کی اپنی انا رکاوٹ بنتی ہے ۔ جس شخص کی انا مٹ چکی ہو اس کے لیے کیا چیز ہوگی جو دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بنے ۔ لبید ایک صحابی ہیں ۔ وہ عرب کے ایک شاعر تھے ۔ انہوں نے جب قرآن کو سنا تو وہ فوراً اس کے مومن بن گئے ۔ اس کے بعد ان کی شاعری چھوٹ گئی ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے شاعری کیوں چھوڑی تو انہوں نے کہا : اَبْعَدُ الْقُرْآنِ (کیا قرآن کے بعد بھی) حضرت لبید کے اس جملہ کی اہمیت سمجھنے کے لیے ہم کو ۱۴ سو برس پیچھے جانا پڑے گا۔ حضرت لبید نے یہ جملہ اس وقت کہا جب کہ قرآن ابھی اتر رہا تھا ۔ جب قرآن کو ماننے والے مظلوم تھے۔ جب دنیا میں قرآن کی وہ عظمت قائم نہیں ہوئی تھی جو بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات کے نتیجہ میں قائم ہوئی۔ اس وقت یہ کہنا کہ ”کیا قرآن کے بعد بھی“ ایک بے حد
‹ Previous page Next page › Contents of September 1987 All issues