پیغام رسانی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳
پیغام رسانی
سادہ طور پر ایک انسان کی آواز صرف اس کے قریبی لوگوں تک سنائی دیتی ہے۔ تاہم قدیم ترین زمانہ سے انسانی آواز کی توسیع کے مختلف طریقے رائج رہے ہیں۔ ابتداء اسلام میں اس کی متعدد مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس کا ابتدائی طریقہ زیادہ زور کے ساتھ اپنی آواز نکالنا ہے۔ سورہ برارت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو مکہ بھیجا کہ وہ حج کے موقع پر اس کا اعلان کردیں۔ وہ مجمع کے درمیان بلند آواز سے پکارتے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کرے گا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں پکارتا پھرتا تھا، یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی (قال فكنت انادى حتى صحل صوتی، تفسیر ابن كثير) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ متکلم خود معتدل آواز سے بولے اور دوسرے لوگ اس کو سن کر بلند آواز سے اس کو دہرائیں۔ حجتہ الوداع کے موقع پر یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے الفاظ رک رک کر ادا فرماتے تھے اور دوسرے افراد اس کو لے کر بلند آواز سے لوگوں کے سامنے دہراتے تھے (قال كان الرجل الذي يصرخ في الناس بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمعرفة ربيعة بن أمية بن خلف، سيرة ابن هشام)
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ صاحب کلام خود سفر کر کے لوگوں کے پاس پہونچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی زندگی کے آخری دور میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ خود چل کر مختلف قبائل کی قیام گاہوں میں جاتے اور ان کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ سیرۃ ابن ہشام جلد دوم کے آغاز میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔
چوتھا طریقہ جس کی مثال دور نبوت میں ملتی ہے وہ مکتوب کا طریقہ ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب امن قائم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف عرب کے رئیسوں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں درج ہے ۔
موجودہ زمانہ میں انسانی آواز کی توسیع کے مشینی طریقے رائج ہوگئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ کا طریقہ ہے۔ ضرورت ہے کہ ان عصری طریقوں کو بھی اسلام کی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک موثر ترین انداز میں پہنچ سکے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues