Al-Risala · October 1987 · page 36

مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص ایسا کرے کہ وہ نکاح کے دائرہ سے باہر جنسی تعلق قائم کرے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ڈسپلن نہیں ہے ۔ وہ اپنے جذباتی محرکات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایسا شخص اپنے کردار کے اعتبار سے ہرگز اعتبار کے قابل نہیں ۔ اس کے اندر ایک ایسی نفسیاتی کمزوری ہے جس کی بنا پر شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنی کسی ذاتی خواہش کے لیے بڑے سے بڑے قومی مفاد کو قربان کر دے۔ ایسا شخص عام زندگی میں بھی بھروسہ کے قابل نہیں ، کجا کہ ریاست کے اعلیٰ منصب کے لیے اس پر بھروسہ کیا جائے ۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جنسی تعلقات کے معاملہ میں خدائی حد کو توڑنا سادہ معنوں میں صرف ایک مذہبی برائی نہیں ہے ، وہ مہلک قسم کی سماجی برائی بھی ہے ۔ وہ صرف ایک گناہ نہیں ، وہ ایک جرم بھی ہے ۔ بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے سب سے بڑا جرم ۔ ے پے ، پے ٫ ہوت ۔

تعبیر کی غلطی مولانادی الدین خان مطبوعات الاسلامی دیلی بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ ہم میں سے ہر شخص خدا وندِ عالم کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اُس دن حقیقت آخری حد تک کھل چکی ہوگی۔ خوبصورت الفاظ کی دیواریں جو آج لوگوں نے اپنے گرد کھڑی کر رکھی ہیں ، سب اس روز ڈھ جائیں گی۔ لوگ اس طرح ننگے ہو جائیں گے کہ درخت کے پتے بھی نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے آپ کو چھپا سکیں ۔ مبارک ہے وہ جس کے لئے وہ دن سعی مشکور کی خوش خبری لے کر آئے ۔ بد نصیب ہے وہ جس کا دین اس روز قبول نہ کیا جائے اور خدا اُس سے کہہ دے ــــ تم جس بات کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ محض تمھارے دماغ کی اُپج تھی ، وہ میری بات ہی نہیں تھی ۔

صفحات ۳۴۴ قیمت ۳۵ روپیہ

مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1987 All issues

Printed page